نئی دہلی: کانگریس قائد جے رام رمیش نے قومی سلامتی اور چین کے ساتھ جاری سرحدی تنازعہ کے درمیان وزیر اعظم مودی کو ہدف تنقید بنایا۔ پارٹی کے جنرل سکریٹری انچارج شعبہ مواصلات جے رام رمیش کے اپنے جاری کردہ پریس بیان میں کہا کہ سرحد پار سے دہشت گردی کا خطرہ برقرار ہے، چین سرحد اسٹریٹجک طور پر اہم کئی پوائنٹ تک ہندوستانی فوجیوں کو رسائی حاصل نہیں اور چین ہمارے پڑوسی ممالک سے تعلقات میں اضافہ کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی کے تئیں مودی حکومت لاپروا ہے اور وہ اسے صرف اور صرف انتخابی نقطہ نظر سے دیکھتی ہے۔ کانگریس لیڈر جے رام رمیش نے کہا کہ فوجی سربراہ جنرل منوج پانڈے نے اپنی سالانہ پریس کانفرنس سے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ 2020 کے وسط جیسی صورت حال میں واپس جانے کے لئے مذاکرات (چین کے ساتھ) جاری رکھیں۔ ان کا یہ تبصرہ یاد دلاتا ہے کہ دراندازی کے تقریباً چار سال بعد بھی چینی ہندوستانی فوجیوں کو لداخ میں 2 ہزار مربع کلومیٹر علاقہ میں جانے سے روک رہے ہیں۔ جے رام رمیش نے مزید کہا کہ فوجی سربراہ نے کہا کہ راجوری پونچھ میں دہشت گردانہ سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے اور راجوری پونچھ سیکٹر میں دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے کی حمایت سرحد پار سے جاری ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ سرحد پار سے دہشت گردی کا خطرہ بدستور موجود ہے۔ نوٹ بندی یا جموں و کشمیر کا ریاست کا درجہ ختم کر کے دہشت گردی کو ختم کرنے کے دعوے مکمل طور پر غلط ثابت ہوئے ہیں۔ جموں و کشمیر میں 5 اگست 2019 سے اب تک دہشت گردانہ حملوں میں 160 سے زیادہ فوجی جان گنوا چکے ہیں۔
ہمارے فوجیوں پر حال ہی میں 12 جنوری کو پونچھ میں حملہ کیا گیا تھا۔ لیکن خوش قسمتی سے اس بار کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کی طرف سے 19 جون 2020 کو چین کو دی گئی کلین چٹ، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ’نہ کوئی ہماری سرحد میں آیا ہے اور نہ ہی کوئی گھسا ہے۔ ہمارے شہید فوجیوں کی توہین تھی۔ اس کلین چٹ کی وجہ سے، 18 دور کے مذاکرات کے باوجود، 2000 مربع کلومیٹر ہندوستانی علاقہ پر چینی کنٹرول برقرار ہے۔