برطانوی جریدہ ’دی اکنامسٹ‘ کی رپورٹ۔ مودی کی پالیسیاں ملک کیلئے سیاسی زہر
لندن 24 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) معروف برطانوی جریدہ ’’دی اکنامسٹ‘‘ نے متنازعہ شہریت بل کے تناظر میں بی جے پی حکومت کی پالیسیوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے لکھا ہے کہ مودی واضح طور پر ہندوستان کو ایک کثیرالمذاہب اور برداشت رکھنے والے ملک سے بدل کر ایک متعصب ہندو ریاست بنانا چاہتے ہیں۔ لندن سے شائع ہونے والے جریدہ نے یہ بھی لکھا کہ نریندر مودی کی پالیسیوں نے انہیں الیکشن میں تو کامیاب کیا ہے لیکن ان کی یہی پالیسیاں ہندوستان کیلئے اجتماعی طور پر ’’سیاسی زہر‘‘ ثابت ہوئی ہیں۔ جریدے نے خبردار کیا کہ مودی کی پالیسیاں اور اقدامات، بشمول متنازعہ شہریت بل، بڑے پیمانے پر قتل و غارت گری کو جنم دے سکتے ہیں۔ ’’ہندوستانی دستور کے سیکولر اُصولوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مودی کے حالیہ اقدامات سے وہاں پر جمہوریت کو اتنا شدید نقصان پہنچ سکتا ہے کہ جس کے اثرات اگلے کئی عشروں تک جاری رہیں گے۔ دی اکنامسٹ نے اپنے تجزیہ میں لکھا کہ مذہبی اور قومی شناخت پر تقسیم پیدا کرکے اور مسلمانوں کو مسلسل ’’پانچویں خطرناک ریاست‘‘ دے کر بی جے پی حکومت نے نہ صرف اپنے لئے حمایت مضبوط بنائی ہے بلکہ ہندوستان کی مسلسل تباہ ہوتی ہوئی معیشت سے توجہ ہٹانے میں کامیاب بھی ہوگئی ہے۔ بادی النظر میں نریندر مودی کا ایجنڈہ یہی لگتا ہے کہ آنے والے وقت میں خود کو ہندوستان میں رہنے والی 80 فیصد ہندو اکثریت کا نجات دہندہ ظاہر کریں۔ جریدے نے خاص طور پر مقبوضہ کشمیر کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا کہ بی جے پی نے مقبوضہ وادی کے مسلمانوں کو ’’اجتماعی سزا‘‘ دے رکھی ہے جنہیں پانچ ماہ سے بھی زیادہ عرصے سے بیجا گرفتاریوں، بے رحمانہ کرفیو، انٹرنیٹ پر پابندی اور اس جیسے متعدد انسانی مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ جریدے نے لکھا کہ ہندوؤں میں مسلسل احساسِ برتری جب کہ مسلمانوں میں احساسِ کمتری کو ہوا دے کر بی جے پی نے (ہندوستان میں) خونریزی کی تازہ لہر کو بڑی حد تک ممکن بنادیا ہے۔