مودی ۔امیت شاہ کو استعفی تک چین سے سونے نہیں دونگا

   

دونوں کی نیندیں حرام ہوگئی ہیں۔ بیرونی سربراہان سے گلے ملنا خارجہ پالیسی نہیں ہوتی ‘ راہول گاندھی کا خطاب

نئی دہلی 13 اگسٹ ( ایجنسیز ) قائد اپوزیشن راہول گاندھی نے کہا کہ جب تک وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ استعفی پیش نہیں کردیتے اس وقت تک وہ ان دونوں کو چین سے سونے نہیں دیں گے ۔ راہول گاندھی دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب میں رچناتمک کانگریس کے اختتامی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے ۔ راہول گاندھی نے کہا کہ آج کل وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ کو شائد نیند بھی نہیں آ رہی ہے اور جب تک یہ دونوں استعفی پیش نہیں کردیتے میں اس وقت تک انہیں چین سے سونے نہیں دوں گا ۔ راہول گاندھی نے کہا کہ ملک میں اظہار خیال کی آمادی ہے اور اختلاف رکھنے والوں کو بھی اس کے مساوی حقوق ملنے چالئیں ۔ انہوں نے کہا کہ نظریاتی اختلاف اپنی جگہ ہے لیکن جمہوریت میں اظہار خیال کا حق ہر ایک کو حاصل ہونا چاہئے ۔ اس میں کوئی رکاوٹ نہیں پیدا کی جانی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ کسی تنظیم کا نظریہ سے اختلاف کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس کی آواز کو خاموش کردیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ دہلی کے جنتر منتر پر بھی طلباء اپنی آواز اٹھانا چاہتے تھے کہ وہ مسائل کا شکار ہیں لیکن انہیں روکنے کی کوشش کی گئی ۔ راہول گاندھی نے نریندر مودی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ صرف دیگر ممالک کے سربراہان سے گلے ملنا ہی خارجہ پالیسی نہیں ہوسکتی ۔ انہوں نے وزیراعظم کی جانب سے پریس کانفرنس نہ کئے جانے پر بھی تنقید کی اور کہا کہ جمہوری نظام میں میڈیا کے سوالات کا راست سامنا کرنا بھی ضروری ہوتا ہے ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی کی سیاسی سوچ ہندوستان پر ایسا نظام مسلط کرنا ہے جو اس کے اور کچھ دوسرے لوگوں کے مفاد میں ہو۔انہوں نے کہا کہ کانگریس اس نظام کو توڑنے کی کوشش کریگی جسے بی جے پی ملک پر مسلط کرنا چاہتی ہے ۔راہول گاندھی نے وزیر داخلہ امت شاہ کی پارلیمنٹ میں عدم موجودگی پر بھی طنز کیا۔ انہوں نے کہا، ”آپ نے امت شاہ کو دیکھا، جنہیں نام نہاد طور پر کیا کہا جاتا تھا؟ چانکیہ، اور کیا؟ سردار پٹیل۔ وہ کہاں غائب ہوگئے ؟ وہ ۲۰ دن تک پارلیمنٹ نہیں آسکے ۔ کیوں؟ کیونکہ پہلی بار انہیں ہندوستان کی آواز کا احساس ہورہا ہے –