حیدرآباد16 نومبر(یواین آئی)موسم کی تبدیلی کے ساتھ ہی شہر میں وبائی امراض کے متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ سردی کی لہر میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے ۔صبح اورشام میں درجہ حرارت میں کمی درج کی جارہی ہے جس سے دمہ، نمونیا، پھیپھڑوں کے امراض کے متاثرین کی تعداد میں 30سے 40فیصد اضافہ ہوا ہے ۔اس سے سرکاری او خانگی ہاسپٹلس میں او پی کے ساتھ آئی پی کے مریضوں کی تعداد بڑھ گئی ہے ۔ ڈاکٹرس نے ضعیف افراد اوربچوں کو چوکس رہنے کا مشورہ دیا ہے ۔ شہر کے چیسٹ ہاسپٹل میں آوٹ پیشنٹ مریضوں کی تعداد بڑھ کر تقریبا250 ہوگئی ہے جبکہ ان پیشنٹ کی تعداد بڑھ کر 400 ہوگئی ہے ۔ ڈاکٹرس نے کہاکہ سردی کے مہینوں کے اوائل میں ہی مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہواہے ۔ موسمی تبدیلی اس کی وجہ ہے۔ نمونیا کے معاملات میں بھی بتدریج اضافہ ہورہا ہے۔ او پی کے معاملات میں 15 تا 20فیصد کااضافہ ہوا ہے۔ ڈاکٹرس کا کہنا ہے کہ موسمی امراض کے متاثرین میں 30فیصد کوویڈ سے صحت یاب افراد ہیں۔ کورونا سے صحت یاب افراد کو چوکس رہنے کا مشورہ دیا گیاہے ۔ سردی کی لہر میں اضافہ کے سبب جلدی امراض کے متاثرین کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے ۔
عثمانیہ ہاسپٹل، گاندھی ہاسپٹل،چیسٹ ہاسپٹل،فیور ہاسپٹل کے بشمول پرائیویٹ ہاسپٹلس میں ڈرماٹولوجی اوپی کے مریضوں کی تعداد بڑھ گئی ہے ۔