موسی ریور فرنٹ پراجکٹ کیلئے مرکز سے فنڈز اور تکنیکی سپورٹ کا مطالبہ

   

ندی کوآلودگی سے پاک اور سیاحتی مرکز بنانا اہم مقصد، لوک سبھا میں رکن پارلیمنٹ کرن کمار ریڈی کی توجہ دہانی
حیدرآباد۔/3 ڈسمبر، ( سیاست نیوز) بھونگیر کے کانگریس رکن پارلیمنٹ سی ایچ کرن کمار ریڈی نے موسی ریور فرنٹ ڈیولپمنٹ پراجکٹ کی تکمیل کیلئے مرکز سے فنڈز کی اپیل کی ہے۔ لوک سبھا میں آج قاعدہ 377 کے تحت کرن کمار ریڈی نے یہ مسئلہ اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ موسی ریور فرنٹ ڈیولپمنٹ پراجکٹ ماحولیاتی، سماجی اور معاشی اعتبار سے اہمیت کا حامل ہے۔ موسیٰ ندی جو کبھی حیدرآباد اور اس کے اطراف کے علاقوں کیلئے پانی کی سربراہی کا اہم ذریعہ تھی آج آلودگی کا شکار ہے۔ سیوریج واٹر، صنعتی فضلہ اور ناجائز قبضوں کے سبب موسی ندی نہ صرف آلودگی کا شکار ہے بلکہ وہ سکڑتی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نلگنڈہ ضلع میں تقریباً 40000 ایکر زرعی اراضی کو موسی ندی سے پانی سیراب کیا جاتا ہے اور آلودہ پانی کے نتیجہ میں فصلیں تباہ ہورہی ہیں۔ 60 ہزار ایکر اراضی پر فصلوں کیلئے بورویل اور چھوٹے تالابوں سے پانی حاصل کیا جارہا ہے لیکن یہ پانی بھی آلودہ ہے کیونکہ زیر زمین پانی موسی ندی کی آلودگی کے سبب متاثر ہوچکا ہے۔ موسی ریور فرنٹ کے علاوہ سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس کے قیام کی تجویز ہے تاکہ سیوریج واٹر کا صد فیصد ٹریٹمنٹ ہو اور آلودگی سے پاک کیا جاسکے۔ کرن کمار ریڈی نے کہا کہ حیدرآباد کے شمال مغربی راہداری پر ملٹی ماڈل ٹرانسپورٹ سسٹم کو توسیع دی جارہی ہے تاکہ موسی ندی کے اطراف کا علاقہ سیاحت اور معاشی سرگرمیوں کے مرکز میں تبدیل ہوسکے۔ رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ تلنگانہ حکومت کے ایک وفد نے حال ہی میں جنوبی کوریا کے سیؤل کا دورہ کرتے ہوئے وہاں ندیوں کے تحفظ اور ترقی کا بھی جائزہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ دورہ تفصیلی پراجکٹ رپورٹ کی تیاری میں مددگار ثابت ہوگا۔ پراجکٹ کیلئے مناسب معاشی اور تکنیکی مدد کی ضرورت ہے۔ کرن کمار ریڈی نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ تلنگانہ حکومت سے اشتراک کرتے ہوئے پراجکٹ کی تکمیل کیلئے معاشی مدد کرے۔ ایجنسیوں اور ترقیاتی اسکیمات کے تحت فنڈز کی اجرائی کے علاوہ تکنیکل ماہرین کے ذریعہ تعاون کیا جائے تاکہ پراجکٹ کی تکمیل کا خواب پورا ہوسکے۔1