موسی ندی کے کناروں کی بستیوں کے سروے کا آغاز

   

16 ٹیموں نے سروے کا کام انجام دیا ۔ مختلف مقامات پر عوام کی مخالفت کا سامنا

حیدرآباد 26 ستمبر (سیاست نیوز) حکومت کی جانب سے موسیٰ ندی کے کناروں پر آباد بستیوں کے تخلیہ کے احکامات پر آج حکام نے سخت حفاظتی انتظامات میں طاس کے حدود کا تعین کرنے سروے کا آغاز کیا اور تین اضلاع حیدرآباد‘ رنگاریڈی اور ملکاجگری و میڑچل کلکٹرس کی نگرانی میں عہدیداروں کو کئی مقامات پر مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ طاس موسیٰ میں کئی بڑی عمارتیں موجود ہیں جن کے مالکین جائیدادوں کے تخلیہ کیلئے آمادہ نہیں ہیں۔ حکومت نے 16 ہزار ڈبل بیڈ روم مکانات کی فراہمی کے ذریعہ موسیٰ ندی کے کناروں کی بستیوں کے مکینوں کو منتقل کرنے کا فیصلہ کرکے تینوں ضلع کلکٹرس کو ہدایات دی تھیں کہ وہ سروے کرکے طاس موسیٰ کا تعین کریں۔ سروے کے دوران محکمہ مال‘ محکمہ آبپاشی ‘ محکمہ بلدی نظم و نسق و موسی ریورفرنٹ ڈیولپمنٹ کارپوریشن عہدیداروں نے مختلف مقامات کا دورہ کرکے سروے کا آغاز کیا ہے۔ عہدیداروں کو عوامی مزاحمت کا سامنا نہ کرنا پڑے اس کیلئے سخت پولیس بندوبست کیا گیا لیکن عوام نے سروے کی مخالفت کرتے ہوئے رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کی ۔ بتایاجاتا ہے کہ موسیٰ ندی کے طاس میں 2166 مستقل تعمیرات اور 10 ہزار 200 قبضہ جات کی نشاندہی کی جاچکی ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ موسی ریورفرنٹ ڈیولپمنٹ کارپوریشن کی جانب سے موسیٰ ندی کے کنارے رہنے والے مکینوں کو 16 ہزار ڈبل بیڈ روم مکانات کی فراہمی سے واقف کروانے کے باوجود عوام تخلیہ کیلئے آمادہ نہیں ہیں۔ حیدرآباد حدود میں حکام نے آج موسیٰ نگر‘ شنکر نگر‘ چادرگھاٹ ‘ واحد نگر و دیگر محلہ جات کا دورہ کرکے سروے کیا ۔ ذرائع کے مطابق آئندہ ایک ہفتہ میں عہدیداروں کی ٹیمیں دیگر محلہ جات کا دورہ کرکے مستقل عمارتوں اور قبضہ جات کا سروے کرینگی اور رپورٹ تیار کریں گی ۔ عہدیداروں کو ہدایت دی گئی کہ وہ سروے رپورٹ روزانہ کی اساس پر متعلقہ عہدیداروں کو پیش کریں تاکہ اس بنیاد پر کاروائی کا فیصلہ کیا جاسکے۔ محکمہ مال و محکمہ بلدی نظم ونسق کے مطابق آج ایک دن میں طاس موسیٰ کا 16 ٹیموں نے سروے کیا اور جلد رپورٹ پیش کی جائے گی۔3