صبح کے اولین ساعتوں میں جھاگ ، آبی و فضائی آلودگی ، پولیوشن کنٹرول بورڈ کے قوانین کی صریح خلاف ورزی
حیدرآباد۔25۔نومبر(سیاست نیوز) موسیٰ ندی کو ادویات سازوں کے علاوہ دیگر کمپنیاں آلودہ کررہی ہیں اور موسیٰ ندی میں پائی جانے والی آلودگی کو ختم کیا جانا شائد اب ممکن نہیں ہوگا کیونکہ دونوں شہروںکے اطراف موجود ادویات سازی کی کمپنیوںکے علاوہ دیگر کارخانہ جو آلودگی پھیلاتے ہیں وہ اپنے کارخانوں سے نکلنے والے فضلہ کو راست موسیٰ ندی میں چھوڑرہے ہیں جو کہ پولیوشن کنٹرول بورڈ کے قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے اس کے باوجود بھی آلودہ پانی اور فضلہ کے اخراج کے لئے موسیٰ ندی کا استعمال کیا جا رہاہے اور موسیٰ ندی شہر سے باہر نکلنے تک انتہائی آلودہ ہونے لگی ہے جس کی وجہ سے شہر کے نواحی علاقہ پیرزادی گوڑہ اور دیگر علاقوں میں سردی کے دنوں میں صبح کی اولین ساعتوں کے دوران جھاگ نکلنے لگا ہے۔ آبی و فضائی آلودگی کے سلسلہ میں خدمات انجام دینے والے جہدکاروں کا کہناہے کہ تلنگانہ حکومت کی جانب سے تیار کئے گئے قوانین کی ادویات ساز کمپنیوں اور اداروں کے علاوہ دیگر کمپنیوں کی جانب سے صریح خلاف ورزی کی جار ہی ہے جو کہ موسیٰ ندی میں آلودگی کے ساتھ ساتھ اطراف و اکناف کے علاقو ںمیں بھی آلودگی کا سبب بن رہا ہے۔ پولیوشن کنٹرول بورڈ کے ذمہ داروں کا کہناہے کہ شہر کے نواحی علاقوں جیڈی میٹلہ ‘ پاشاہ میلارم‘ جنارم‘ کاٹے دھن ‘ بلارم ‘ چیرلہ پلی کے علاوہ دیگر علاقوں میں موجود کارخانوں سے خارج ہونے والا سیال مادہ جو کہ انتہائی مضر ہے وہ راست موسیٰ ندی میں چھوڑا جا رہا ہے اس بات کی کئی شکایات موصول ہوئی ہیں ۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ وہ ان شکایات کا جائزہ لے رہے ہیں جبکہ جہدکاروں نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کارخانوں اور کمپنیوں کو سیاسی سرپرستی حاصل ہونے کے سبب ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی جار ہی ہے جبکہ آلودگی پھیلانے والی کسی بھی کمپنی کو حیدرآباد میٹروپولیٹین ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کے حدود میں خدمات انجام دینے کی اجازت حاصل نہیں ہے لیکن اس کے باوجود کئی کمپنیاں اب بھی چلائی جا رہی ہیں جو کہ شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کا سبب بن رہی ہیں۔ شہر تیزی سے پھیل رہا ہے اور ایسے میں شہر کے نواحی علاقو ں میں اس آلودگی سے انسانی صحت کو سنگین خطرات لاحق ہوسکتے ہیں اسی لئے موسیٰ ندی کو آلودگی سے پاک بنانے کے اقدامات کے ساتھ ساتھ قوانین کی خلاف ورزی کرنے والی کمپنیوں کے خلاف کاروائی کے اقدامات کئے جانے چاہئے ۔ جہدکاروں کے مطابق جیڈی میٹلہ ‘ جنارم‘ چیرلہ پلی ‘ پاشاہ میلارم کے علاوہ دیگر صنعتی علاقوں میں کئی ایسی کمپنیاں موجود ہیں جن میں نئے افراد یا آلودگی کے خلاف اور ماحولیات کے تحفظ کے سلسلہ میں جدوجہد کرنے والوں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جاتی اور کہا جاتا ہے کہ یہ ایک خانگی کمپنی ہے اسی لئے کسی غیرمجاز شخص کو داخلہ نہیں دیا جاسکتا اسی لئے پولیوشن کنٹرول بورڈ کے عہدیدارو ںکو چاہئے کہ وہ ماحولیات کے تحفظ کے لئے جدوجہد کرنے والوں کو اپنے ساتھ لے جائیں اور اس بات کا مشاہدہ کروائیں کہ ان کمپنیوں میں ایسی کونسی اشیاء تیار کی جارہی ہیں جو موسیٰ ندی کو انتہائی آلودہ کرنے کا سبب بن رہی ہیں۔ پیرزادی گوڑہ کے قریب روزانہ موسیٰ ندی سے ابلنے والے جھاگ کے متعلق جہدکاروں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ماحولیات کے تحفظ کے لئے آلودگی کے خاتمہ کے اقدامات پر زور دیا۔م