تمام متاثرہ خاندانوں کی بازآبادکاری کی جائے گی
حیدرآباد۔/8 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرامارکا نے کہا کہ موسیٰ ندی ترقیاتی پراجکٹ کے بارے میں اپوزیشن کی جانب سے گمراہ کن پروپگنڈہ کیا جارہا ہے تاکہ متاثرہ خاندانوں کو حکومت کے خلاف اکسایا جاسکے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے بھٹی وکرامارکا نے کہا کہ دس سال تک برسراقتدار رہنے والے بی آر ایس قائدین موسیٰ ندی ترقیاتی پراجکٹ کے بارے میں بے بنیاد الزام تراشی کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس دور حکومت میں موسیٰ ندی پراجکٹ پر کابینہ میں فیصلہ کیا گیا تھا۔ کانگریس برسراقتدار آنے کے بعد پراجکٹ پر عمل آوری کی کوششوں کو روکنے کی سازش افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسیٰ ندی کی ترقی کا مقصد حیدرآباد سے نلگنڈہ تک پینے کے پانی اور آبپاشی کی سہولتیں فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابق حکومت نے کوئی پراجکٹ رپورٹ تیار نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ پراجکٹ کے متاثرین کے ساتھ کوئی ناانصافی نہیں ہوگی اور ان کی بازآبادکاری کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ موسیٰ ندی پراجکٹ پر حقیقی خرچ کے بارے میں ابھی تک تخمینہ نہیں کیا گیا ہے اور تفصیلی پراجکٹ رپورٹ کی تیاری باقی ہے۔ پراجکٹ رپورٹ سے قبل ہی بی آر ایس قائدین دیڑھ لاکھ کروڑ کے خرچ کے بارے میں گمراہ کن پروپگنڈہ کررہے ہیں۔ بھٹی وکرامارکا نے کہا کہ ریاست میں انٹیگریٹیڈ اقامتی اسکولوں کی تعمیر کیلئے دسہرہ کے موقع پر بھومی پوجا کی جائے گی۔ یہ انٹیگریٹیڈ اسکولس عالمی معیار کی سہولتوں سے آراستہ ہوں گے۔ 20 تا 25 ایکر اراضی پر اسکول کامپلکس کی تعمیر کیلئے حکومت نے بجٹ مختص کیا ہے۔1