حیدرآباد۔16جولائی(سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ نے ریاست میں انفارمیشن ٹکنالوجی کے فروغ اور آئی ٹی کمپنیوں کی دیگر اداروںکو حوالگی کے لئے موقوفہ اراضیات کے حصول اور تلنگانہ انڈسٹریل انفراسٹرکچر کارپوریشن کے ذریعہ ان جائیدادوں کی فروخت کے بعد اب موسیٰ ندی کو خوبصورت بنانے کے پراجکٹ کیلئے موقوفہ اراضیات حاصل کر نا شروع کردیا ہے ۔ محکمہ مال کی جانب سے جاری کئے گئے اعلامیہ میں درگاہ حضرتقلیج خان ؒ کے تحت موجود 24 ایکڑ 22گنٹہ اراضی حاصل کرنے کا اعلامیہ جاری کردیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ضلع کلکٹر رنگاریڈی نے اس سلسلہ میں تلگو اخبارات میں شائع کئے گئے اعلامیہ میں اس بات کی صراحت کی ہے کہ ضلع رنگاریڈی کے منڈل گنڈی پیٹ میں موجود درگاہ حضرت قلیج خان ؒ قسمت پورکے تحت موجود 24ایکڑ جائیداد کو حاصل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو کہ موسیٰ ندی کو خوبصورت بنانے کے پراجکٹ کیلئے حاصل کی جا رہی ہے۔ قانون حق حصول اراضی کے تحت حاصل کی جانے والی اس درگاہ کی اراضی کے سلسلہ میں تاحال تلنگانہ وقف بورڈ کو کوئی مکتوب موصول نہیں ہوا ۔ ذرائع کے مطابق محکمہ مال کی جانب سے کی جانے والی اس کاروائی سے متعلق وقف بورڈ کو لاعلم رکھتے ہوئے اراضیات کے حصول کے لئے قانون حق حصول اراضی کا استعمال کرتے ہوئے یہ باور کیا جا رہاہے کہ ریاستی حکومت موسیٰ ندی کو خوبصورت بنانے کے پراجکٹ میں کسی بھی طرح کی مفاہمت نہیں کرے گی اسی لئے مذکورہ اراضیات کے حصول کے لئے کوئی قانونی طریقہ کار اختیار نہیں کیا جا رہاہے بلکہ اعلامیہ کی اجرائی کے ذریعہ اراضیات حاصل کرنے کے احکامات جاری کرتے ہوئے محکمہ مال کی جانب سے تعین کردہ قیمتوں کی حوالگی سے متعلق فیصلہ کیا جا رہاہے ۔ موسیٰ ندی کو خوبصورت بنانے کے پراجکٹ کے دوران متاثر ہونے والی اوقافی جائیدادوں اور درگاہوں کے متاثر ہونے کے معاملہ میں روزنامہ سیاست کے 30 مارچ کے شمارے میں ٹیپو خان برج کے قریب واقع درگاہ حضرت ملنگ شاہ بابا ؒ کے علاوہ رود موسیٰ کے کنارے موجود درگاہوں کی تفصیلات شائع کرتے ہوئے اس بات کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ موسیٰ ندی کو خوبصورت بنانے کے پراجکٹ کے دوران کئی درگاہوں ‘ قبرستانوں اور مذہبی مقامات کو متاثر کیا جاسکتا ہے اور یہ ماہ مارچ کے دوران ظاہر کئے جانے والے یہ خدشات اب درست ثابت ہونے لگے ہیں کیونکہ محکمہ مال نے درگاہ حضرتقلیج خانؒ کے تحت موجود 24ایکڑ 22 گنٹہ اراضی کے حصول کے سلسلہ میں اعلامیہ جاری کرتے ہوئے اس میں جو تفصیلات درج کی ہیں ان کے مطابق اس سلسلہ میں ضلع رنگاریڈی کلکٹر کے دفتر میں فائل زیردوراں ہیں لیکن وقف بورڈ کی ملکیت والی اس اراضی کے حصول کے لئے وقف بورڈ کو تاحال مطلع نہیں کیاگیا جس کے نتیجہ میں وقف بورڈ کسی بھی طرح کی قانونی کاروائی سے قاصر ہے۔ قانون حق حصول اراضی کے تحت اگر کسی جائیداد کے حصول کے لئے جاری کئے جانے والے اعلامیہ کے بعد اگر مالکین ‘ قابضین یا کسی اور گوشہ سے کوئی اعتراض نہیں کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں قانون حق حصول اراضی کے تحت کی گئی کاروائی مکمل کرلی جاتی ہے اور کاروائی مکمل کئے جانے کے بعد کوئی اعتراض قبول نہیں کیا جاتا۔ اسی لئے تلنگانہ وقف بورڈ اور محکمہ اقلیتی بہبود حکومت تلنگانہ کے عہدیداروں کو فوری طور پر حرکت میں آتے ہوئے درگاہ حضرت قلیج خان ؒ کے تحت موجود موقوفہ اراضی کے علاوہ رود موسیٰ کے کنارے موجود درگاہوں اور قبرستانوں کے علاوہ مذہبی مقامات کے تحفظ کے سلسلہ میں اقدامات کرنے چاہئے بصورت دیگر اسی طرح کے اعلامیہ جاری کرتے ہوئے ریاستی حکومت وقف جائیدادوں کو حاصل کرنے کے سلسلہ میں اپنی کاروائیاں مکمل کرلے گی۔مذکورہ درگاہ کے متعلق تلنگانہ وقف بورڈ میں گزٹ موجود ہے اور درگاہ کی تمام تر تفصیلات سیریل نمبر 3175 پر موجود ہیں اور اس درگاہ کے متولی کے زمرہ میں ایچ ای ایچ دی نظام درج ہے۔ اس اعتبار سے نظام اوقاف کمیٹی اس درگاہ کے تحت موجود اراضی کی تولیت رکھتی ہے۔3