موسیٰ ندی کو کیمیائی آلودگی سے بچانے کی ضرورت، عوام امراض میں مبتلا

   

لوک سبھا میں کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی کی توجہ دہانی، ریونت ریڈی نے قومی شاہراہوںکی تعمیر کا مطالبہ کیا
حیدرآباد۔16۔ مارچ (سیاست نیوز) کانگریس ارکان پارلیمنٹ ریونت ریڈی اور کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی نے لوک سبھا میں موسیٰ ندی کو آلودگی سے بچانے اور قومی شاہراہوں کی تعمیر سے متعلق مسائل پر حکومت کی توجہ مبذول کرائی ۔ وینکٹ ریڈی نے موسیٰ ندی میں کیمیائی مواد کے پھیلنے سے آلودگی کی شکایت کی ۔ انہوں نے کہا کہ کیمیائی مادہ کو موسیٰ ندی میں روکنے کیلئے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے جس کے نتیجہ میں موسیٰ ندی کے اطراف کے علاقوں میں بسنے والے لاکھوں افراد مختلف بیماریوں کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کو اس اہم مسئلہ پر فوری توجہ دیتے ہوئے موسیٰ ندی کو آلودگی سے پاک کرنے کے اقدامات کرنے چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح گنگا کی صفائی کیلئے مرکز نے پروگرام شروع کیا ، اسی طرح موسیٰ ندی کی صفائی کا کام انجام دیاجائے ۔ وینکٹ ریڈی نے کہا کہ موسیٰ ندی کی آلودگی تلنگانہ کا ایک اہم مسئلہ ہے۔ یہ ندی وقار آباد سے شروع ہوکر رنگاریڈی ضلع میں پہنچتی ہے اور دریائے کرشنا میں ضم ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد میں آلودہ پانی کی سربراہی کی شکایت عام ہے جس کے نتیجہ میں عوام کی صحت متاثر ہورہی ہے۔ میرے انتخابی حلقہ میں 150 کیلو میٹر تک موسیٰ ندی بہتی ہے۔ کئی علاقوں میں عوام مختلف امراض کا شکار ہیں۔ موسیٰ ندی کی صفائی کے سلسلہ میں مرکز سے بارہا نمائندگی کی گئی لیکن کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس مسئلہ پر توجہ نہیں دی گئی تو بیماریوں میں مزید اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ فارما کمپنیوں کو کیمیاوی آلودگی موسیٰ ندی میں چھوڑنے سے روکا جانا چاہئے ۔ اسی دوران ریونت ریڈی نے قومی شاہراہوں کی تعمیر میں خانگی اداروں کو شامل کرنے کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے کہاکہ یو پی اے دور حکومت میں 37 فیصد خانگی شراکت کو بی جے پی حکومت نے گھٹاکر 7 فیصد کردیا ہے۔ تلنگانہ میں کئی قومی شاہراہوں کی تعمیر زیر التواء ہے جس کے نتیجہ میں سڑک حادثات میں اضافہ ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی زندگی کے تحفظ کے لئے قومی شاہراہیں تعمیر کی جانی چاہئے ۔ انہوں نے حیدرآباد تا وجئے واڑہ قومی شاہراہ کی توسیع کرتے ہوئے چار لائین سے چھ لائین کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کو اس سلسلہ میں درکار بجٹ جاری کرنا چاہئے۔ر