حیدرآباد۔21جنوری(سیاست نیوز) تلنگانہ کے مختلف محکمہ جات میں خدمات انجام دینے والے 100 سے زائد مؤظف عہدیداروں کے مستقبل کے متعلق آئندہ دو یوم کے دوران ریاستی حکومت کی جانب سے فیصلہ کئے جانے کا امکان ہے اور کہا جا رہاہے کہ حکومت اس پالیسی ساز فیصلہ کے ساتھ تمام مؤظف عہدیداروں کی خدمات کی برخواستگی کے سلسلہ میں قطعی فیصلہ کرے گی اور ان کی خدمات کی توسیع کے سلسلہ میں پیشرو حکومت کی جانب سے جاری کئے گئے تمام سرکاری احکامات کو برخواست کرنے کے سلسلہ میں اقدامات کئے جائیں گے۔ ذرائع کے مطابق بی آر ایس دور اقتدار میں جن عہدیداروں کی خدمات میں توسیع دینے کے اقدامات کئے گئے تھے ان کو برخواست کرنے کے سلسلہ میں حکومت کی جانب سے قانونی رائے حاصل کی گئی ہے تاکہ اگر تمام عہدیداروں کی خدمات کو فوری طور پر برخواست کئے جانے کی صورت میں پیدا ہونے والی قانونی رسہ کشی کے متعلق آگہی حاصل کی جاسکے۔ ماہرین قانون اور سابق بیوروکریٹس کے مطابق جن عہدیداروں کی خدمات میں توسیع کے احکامات جاری کئے جاتے ہیں ان احکامات کی برخواستگی کا اختیار بھی حکومت کو حاصل ہوتا ہے اسی لئے اگر موجودہ حکومت کی جانب سے ان عہدیداروں کو فوری اثر کے ساتھ برخواست کیا جاتا تو ایسی صورت میں حکومت کو کسی بھی قانونی رسہ کشی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ بتایاجاتا ہے کہ حکومت کی جانب سے کئے جانے والے اس پالیسی ساز فیصلہ کا اثر تمام مؤظف عہدیداروں پر ہوگا جو کہ وظیفہ کے بعد اپنی خدمات میں توسیع کی بنیاد پر حکومت کے مختلف محکمہ جات میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے اقتدار حاصل کرنے کے ساتھ ہی اس بات کا فیصلہ کیا تھا کہ ریاست کے کسی بھی محکمہ میں کسی مؤظف عہدیدار کی خدمات حاصل نہیں کی جائیں اور جو خدمات انجام دے رہے ہیں ان کی تفصیلات طلب کی جائیں ۔چیف سیکریٹری کی جانب سے طلب کی گئی تفصیلات کے بعد اس بات کا انکشاف ہوا تھا کہ تلنگانہ کے مختلف محکمہ جات اور اداروں میں زائد از 100 مؤظف عہدیدار خدمات انجام دے رہے ہیں ۔حکومت کی جانب سے مؤظف عہدیداروں کے سلسلہ میں کئے جانے والے پالیسی ساز فیصلہ کے بعد ریاست کے کسی بھی محکمہ یا ادارہ میں کسی وظیفہ یاب کے تقرر کے تمام راستہ مسدود ہوجائیں گے ۔3