مولانا آزاد یونیورسٹی میں اردو کا پالی ٹیکنک کالج بند کردیا گیا

   

دسویں کے اردو داں طبقہ کو مواقع حاصل تھے ،اپ گریڈیشن کے نتیجہ میں اب 10+2 طلبہ کو داخلہ ملے گا

محمد مبشرالدین خرم

حیدرآباد۔21اپریل۔ سچر کمیٹی نے ملک میں مسلمانوں کی پسماندگی کو دور کرنے کے لئے ان کی تعلیمی ترقی اور ان کی معاشی حالت کو بہتر بنانے کے لئے جو سفارشات کی تھیں ان میں پالی ٹیکنک کے قیام کے ذریعہ دسویں جماعت کے بعد ہی پالی ٹیکنک کے ذریعہ ہنر کی تربیت فراہم کرتے ہوئے انہیں روزگار سے مربوط کرنے کی سفارش کی تھی اور حکومت ہند نے سال 2008 میں مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں پالی ٹیکنک کالج قائم کیا تھا جس کے بہترین نتائج برآمد ہوئے اور ہزاروں طلبہ جو دسویں جماعت کے بعد اس پالی ٹیکنک کالج سے فارغ ہوتے ہوئے اعلیٰ تعلیم کے حصول کے علاوہ سرکاری ملازمتیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے اس پالی ٹیکنک کالج کو یونیورسٹی کیمپس حیدرآباد میں بند کردیا گیا ۔مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے تحت ملک بھر میں 5 پالی ٹیکنک کالجس کا قیام عمل میں لایا گیا تھا جن میں حیدرآباد‘ بنگلورو‘ کٹک‘ دربھنگہ کے علاوہ کڑپہ میں یہ
کالجس قائم کئے گئے تھے جہاں اردو ذریعہ تعلیم میں پالی ٹیکنک کورسس چلائے جاتے تھے لیکن اب مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد کیمپس میں چلائے جانے والے پالی ٹیکنک کالج کوAICTE کی جانب سے ترقی دیتے ہوئے اپگریڈ کئے جانے کے نام پر بند کردیا گیا ہے جبکہ سال گذشتہ حیدرآباد کیمپس میں چلائے جانے والے پالی ٹیکنک کالج میں 546 طلبہ زیر تعلیم تھے لیکن اب نئے تعلیمی سال سے اس پالی ٹیکنک کالج میں کوئی داخلہ حاصل نہیں کر پائیں گے کیونکہ یونیورسٹی کے شعبہ داخلہ کے ذمہ دار یونیورسٹی سے رجوع ہونے والے طلبہ کو مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ بنگلور میں موجود مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے پالی ٹیکنک کالج میں داخلہ حاصل کریں یا پھر کڑپہ کے کالج میں داخلہ حاصل کریں کیونکہ شہر حیدرآباد میں قائم کئے گئے اس پالی ٹیکنک کالج میں جہاں دسویں جماعت کے بعد طلبہ داخلہ حاصل کرنے کے اہل تھے اس کالج کو بند کردیا گیا ہے۔ سچر کمیٹی کی سفارش پر قائم کئے گئے کالج کو بند کرنے کے ذریعہ اقلیتوں کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔ ڈاکٹر محمد یوسف خان پرنسپل پالی ٹیکنک کالج نے اس سلسلہ میں استفسار پر بتایا کہ پالی ٹیکنک کالج کو انجنیئرنگ کالج کے طور پر ترقی دیئے جانے کے بعد بھی ان کورسس کو جاری رکھا جائے گا جو پالی ٹیکنک کالج میں تھے لیکن انہیں اب ڈپلوما کا درجہ نہیں بلکہ ڈگری کا درجہ حاصل ہوجائے گا۔ پالی ٹیکنک کالج سے3 سالہ ڈپلوما کے حصول کے بعد اعلیٰ تعلیم اور ملازمت حاصل کرنے میں کامیاب ہونے والے نوجوانوں کو اب 10+2یعنی انٹرمیڈیٹ کے بعد ہی ان کورسس میں داخلہ حاصل ہوپائے گا ۔ i/k
مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں سچر کمیٹی کی سفارش پر قائم کئے گئے اس پالی ٹیکنک کالج کو بند کردیئے جانے کے نتیجہ میں ملک بھر کے ہزاروں ان اردو طلبہ کا نقصان ہوگا جو دسویں جماعت کے بعد اردو ذریعہ تعلیم کو برقرار رکھتے ہوئے پالی ٹیکنک کالج میں داخلہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوا کرتے تھے اور ترک تعلیم کے رجحان کا شکار ہونے کے بجائے بہتر ہنر کے ساتھ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے علاوہ روزگار حاصل کرنے میں کامیاب ہونے لگے تھے ۔ مرکزی حکومت کی وزارت فروغ انسانی وسائل اور خود یونیورسٹی انتظامیہ کو چاہئے کہ وہ اس پالی ٹیکنک کالج کو ترقی کا نام دیتے ہوئے بند کرنے کے بجائے یونیورسٹی میں موجود شعبہ ٔ انجنیئرنگ کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے ساتھ کورسس کی تعداد میں اضافہ کو یقینی بنائے اور مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں موجود شعبہ ٔ انجنیئرنگ کو بہتر و مستحکم بنانے کے علاوہ پالی ٹیکنک کالج کو بھی باقی رکھنے کے اقدامات کریں ۔AICTE اگر واقعی مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے تحت حیدرآباد کیمپس میں چلائے جانے والے پالی ٹیکنک کالج کی کارکردگی سے متاثر ہے تو ایسی صورت میں نشستوں میں اضافہ کیا جاسکتا ہے او رخود یونیورسٹی انتظامیہ اس پالی ٹینک کالج کی شاندار کارکردگی کی بنیاد پر اسے ’جسٹس راجندر سچر‘ کے نام سے موسوم کرتے ہوئے باقی رکھنے کے اقدامات کرسکتا ہے کیونکہ مسلمانوں کی تعلیمی و معاشی ترقی کے لئے ان کی سفارش کی بنیاد پر ہی اس پالی ٹیکنک کالج کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔