مولانا صدیقی، عمر گوتم کیس : عرفان خان کی ضمانت عرضی قبول

,

   

مذہب تبدیل کرانے کے الزام میں مولانا صدیقی ، عمر گوتم کے بشمول 17 ملزمین قید ہیں

ممبئی: مذہب تبدیل کرانے کے الزام میں گرفتار عرفان خواجہ خان کی ضمانت پرر ہائی کی عرضداشت پر آج سپریم کورٹ میں سماعت عمل میں آئی جس کے دوران دو رکنی بنچ نے ضمانت عرضداشت کو سماعت کے لیئے قبول کرتے ہوئے اتر پردیش حکومت کو نوٹس جاری کیا۔ دو رکنی بنچ کے جسٹس انیرودھ بوس اور جسٹس وکرم ناتھ کو سینئر ایڈوکیٹ نتیا راما کرشنن نے بتایا کہ ملزم ایک سال سے زائد عرصے سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے مقید ہے، ملزم کو اتر پردیش حکومت کی جانب سے بنائے گئے متنازعہ قانون اترپردیش پروہبیشن آف ان لا فل کنورژن آف ریلیجن ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا تھا اور گرفتاری کے بعد سے ہی ملزم جیل کی سلاخوں کے پیچھے مقید ہے۔ جمعیۃعلماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کی جانب سے ملزم عرفان کے دفاع میں پیش ہوتے ہوئے سینئر ایڈوکیٹ نتیا راما کرشنن نے عدالت کو مزید بتایا کہ عرفان خان مرکزی حکومت کے زیر انصرام منسٹری آف ویمن اینڈ چلڈرن ڈیولپمنٹ میں بطور ترجمان کام کرتا ہے نیز یو پی اے ٹی ایس نے ملزم پر جو الزام لگایا ہے کہ ہ وہ گونگے بچوں کو عمر گوتم کے کہنے پر اسلام قبول کرنے میں ان کی مدد کرتے تھے اس میں کوئی صداقت نہیں ہے کیونکہ وہ عمر گوتم کو جانتے بھی نہیں ہیں اور نوئیڈا ڈیف سوسائٹی سے ان کا تعلق بھی نہیں۔گذشتہ سال تر پردیش انسداد دہشت گرد دستہ ATSنے عمر گوتم اور مفتی قاضی جہانگیر قاسمی، مولاکلیم صدیقی سمیت کل 17ملزمین کو جبراً تبدیلی مذہب کے الزام میں گرفتار کیا تھا اور ان پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ پیسوں کا لالچ دے کر ہندوؤں کو مسلمان بناتے تھے۔ عرفان پہلا ملزم ہے جو سپریم کورٹ سے رجوع ہوا ہے۔
کراکے انہیں مسلمان بناتے تھے اور پھر ان کی شادیاں بھی کراتے تھے۔
پولس نے ممنو ع تنظیم داعش سے تعلق اور غیر ملکی فنڈنگ کا بھی الزام عائد کیا ہے۔اس مقدمہ میں ابھی تک کسی بھی ملزم کی ضمانت نہیں ہوئی ہے، ملزم عرفان پہلا ملزم ہے جس نے سپریم کورٹ سے رجو ع کیاہے۔

آج کی عدالتی کارروائی کے بعداس ضمن میں جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے کہا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے یو پی حکومت کو نوٹس جاری کیا جانا خوش آئند ہے کیونکہ سپریم کورٹ کی جانب سے کسی بھی معاملے میں نوٹس جاری کیئے جانے سے اس مقدمہ کے مثبت نتائج آنے کی امید بڑھ جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملزم عرفان خواجہ خان کا مقدمہ جمعیۃ علماء پہلے دن سے لڑ رہی ہے اور ملزم کی ضمانت پرر ہائی کے لیئے سیشن عدالت میں ایک مرتبہ اور لکھنؤ ہائی کورٹ میں دو مرتبہ کی گئی لیکن کامیابی نہیں مل سکی لیکن ہمیں امید ہیکہ عرفان خان کو سپریم کورٹ سے راحت حاصل ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ لکھنؤ سیشن عدالت میں بھی ملزم کی پیروی کی جارہی ہے اور مقدمہ کی ہر سماعت پر ایڈوکیٹ فرقان خان عدالت میں موجود رہتے ہیں۔ خیال رہے کہ