سنجے راوت کے بعدسابق چیف منسٹر کے بیان سے ریاست میں سیاسی ہلچل
ممبئی : مہاراشٹرا میں سیاسی ماحول ایک بار پھر گرم ہو گیا ہے۔ شیوسینا (ادھو بالا صاحب ٹھاکرے) کے رہنما سنجے راوت کے اس دعوے کے بعد کہ ایکناتھ شنڈے کی قیادت والی حکومت 15دنوں کی مہمان ہے اور اندورن پندرہ دن گر جائے گی۔ سنجے راوت کے اس بیان سے ادھو ٹھاکرے بھی بہت خوش دکھائی دے رہے ہیں۔جلگاؤں ضلع میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ ریاست میں انتخابات ’کسی بھی وقت‘ ہو سکتے ہیں اور ان کی پارٹی اس کے لیے تیار ہے۔دراصل سنجے راوت نے دعویٰ کیا ہے کہ ایکناتھ شنڈے کی حکومت کا ’ڈیتھ وارنٹ‘ جاری کیا جا چکا ہے۔ یہ حکومت اگلے 15تا20 دنوں میں گر جائے گی۔ اس بیان کے بعد ہی ٹھاکرے کا بیان بھی سامنے آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاملہ سپریم کورٹ میں ہے اور ہمیں امید ہے کہ فیصلہ ہمارے حق میں آئے گا۔ اس کے بعد کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ٹھاکرے نے طنز کیا کہ ریاستی بی جے پی کے سربراہ چندر شیکھر باونکولے نے کہا تھا کہ شنڈے کی پارٹی کو کل 288 میں سے صرف 48 سیٹیں دی جائیں گی۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا بی جے پی اس شخص کی قیادت میں الیکشن لڑے گی جس نے صرف 48 سیٹوں پر مقابلہ کیا تھا؟ وزیر اعلی شنڈے اور دیگر باغی رہنماؤں کا حوالہ دیتے ہوئے، ٹھاکرے نے کہا کہ ان کی پارٹی اور حامی اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ’غدار‘ سیاسی طور پر ختم ہو جائیں۔ انہوں نے کہا کہ سب دیکھیں گے کہ آپ ختم ہو گئے ہیں۔ ہم نے دھوکہ دہی کی وجہ سے بننے والی ریاست سے جڑے بدنما داغ کو دھو دیا ہے۔ مہاراشٹرا بہادروں کی سرزمین ہے، غداروں کی نہیں۔درحقیقت، ٹھاکرے کو گزشتہ سال ان کے وزیر اعلیٰ کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا جب شیوسینا کے ایکناتھ شنڈے کی قیادت میں باغی لیڈروں کے ایک حصے نے بی جے پی سے ہاتھ ملایا اور ریاست میں مخلوط حکومت بنائی۔ اس کے بعد شیوسینا کے دونوں فریقوں کے درمیان رسہ کشی ہو گئی۔ ٹھاکرے کی زیرقیادت گروپ نے اسی مسئلہ کو لے کر اس سال کے شروع میں سپریم کورٹ کا رخ کیا تھا۔ دریں اثنا، الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) نے شنڈے گروپ کو حقیقی شیو سینا کے طور پر تسلیم کیا اور دونوں گروپوں کو نئے نام الاٹ کر دیئے۔