مہاراشٹرا کے ہاسپٹل میں مجرمانہ غفلت سے موت:کانگریس

   

پونے : مہاراشٹرا کے دیناناتھ منگیشکر ہاسپٹل میں مبینہ طور پر علاج سے انکار کے باعث حاملہ خاتون تنیشا بھسے کی موت کے بعد ریاست میں سیاسی ہلچل مچ گئی ہے ۔ مہاراشٹرا پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے اس معاملے میں شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ہاسپٹل انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور مطالبہ کیا ہیکہ ہاسپٹل کے ذمہ داران کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا جائے اور پورے معاملے کی ایس آئی ٹی تحقیقات ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں کروائی جائے ۔سپکال نے آج پونے میں مہاتما جیوتی با پھولے کی جینتی کے موقع پر پھولے واڑہ جا کر انہیں خراج پیش کیا۔ اس کے بعد بھسے خاندان سے ملاقات کی۔ انہوں نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ لتا منگیشکر جی کی آواز سے جو ہاسپٹل جُڑا ہے ، آج اسی ادارہ سے مایوسی ہوئی ہے۔
انسانیت کو شرمندہ کر دیا ہے۔
ایک حاملہ خاتون کو سوا پانچ گھنٹے محض پیسوں کی کمی کی وجہ سے علاج سے محروم رکھا گیا۔ یہ ایک طرح کا قتل ہے ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ہاسپٹل کی جانب سے عطیہ میں دی گئی زمین اور مذہبی مقاصد کے تحت حاصل کیے گئے حقوق کی خلاف ورزی کی گئی ہے ۔ سپکال نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ معاملے کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے اور ذمہ داروں کو بچانے کیلئے وقت گزاری کر رہی ہے ۔سپکال کا مزید کہنا تھا کہ ہاسپٹل کے سی سی ٹی وی فوٹیج اور ڈاکٹر کیرکر و مرحومہ کے شوہر کے کال ڈیٹیل ریکارڈ (سی ڈی آر) فوری طور پر ضبط کیے جائیں تاکہ حقائق سامنے آ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر کیرکر نے پہلا فون تو اٹھایا، لیکن بعد میں تمام کالز کو نظرانداز کیا۔ ایسے غیر ذمہ دار فرد کو ہاسپٹل سے فوری برطرف کیا جائے اور ان کے خلاف مجرمانہ سازش کا مقدمہ درج کیا جائے ۔کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ اگر ملک میں آزادی کا امرت مہوتسو منایا جا رہا ہے اور اسی دوران ایک حاملہ خاتون کا صرف پیسے نہ ہونے کی وجہ سے علاج سے انکار ہوتا ہے تو یہ ایک نہایت شرمناک، افسوسناک اور غیر انسانی واقعہ ہے ۔سپکال نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اب سنسر بورڈ نے پھولے پر بننے والی فلم سے اس اذیت آمیز تاریخ کو نکالنے کی ہدایت دی ہے ۔ انہوں نے سوال کیا کہ آخر اس کا مقصد کیا ہے ؟ کیا آج کی سرکار اُن سچائیوں کو چھپانا چاہتی ہے جو سماجی بیداری کی بنیاد بنی تھیں؟سپکال نے آر ایس ایس نظریہ ساز گولوالکر کی کتاب ‘بَنچ آف تھاٹس’ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کیلئے یہی کتاب بائبل جیسی ہے اور اس میں عورتوں کی تعلیم کی کوئی گنجائش نہیں دی گئی ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کتاب میں چاتروَرن نظام کے ساتھ عورتوں کو ‘پانچواں ورن’ قرار دے کر ‘اتی شودر’ کہا گیا ہے ۔