میرا سایہ ساتھ ساتھ ہوگا … !

   

باحوصلہ سیاستدان پرینکا گاندھی کی تقاریر سے آنجہانی اندرا گاندھی کی یاد تازہ

نرمل ۔ 3 نومبر (سید جلیل ازہر) شائد آنجہانی اندرا گاندھی نے اپنی پوتری پرینکا گاندھی کو یہ کہا ہوگا کہ میرا سایہ ساتھ ساتھ ہوگا، آج سارا ملک پرینکا گاندھی کی عملی سیاست میں داخلہ کو لے کر کافی بے چین تھا۔ اب اس بے چینی کے حصار سے کانگریس کو چاہنے والے باہر آگئے ہیں۔ پرینکا گاندھی پہلی مرتبہ کیرالا کے وائناڈ لوک سبھا حلقہ سے بحیثیت کانگریس امیدوار اپنا پرچہ نامزدگی داخل کرنے کے بعد ملک کے کئی ریاستوں کے کانگریس قائدین میں ایک نیا جوش و ولولہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ویسے پارٹی کی انتخابی مہم میں کئی ایک جلسوں سے پرینکا گاندھی نے جس انداز سے تقاریر کے ذریعہ عوام میں اپنی دادی آنجہانی اندرا گاندھی کی یاد کو تازہ کرتے ہوئے پارٹی کو جو استحکام بخشا ہے اس کی سب سے پہلی مثال تو کرناٹک میں کانگریس کی اقتدار پر واپسی اور پھر پڑوسی ریاست تلنگانہ کا اقتدار جبکہ کانگریس کو مضبوط بنانے میں راہول گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا کا انتہائی اہم کردار رہا ہے۔ تاہم پرینکا گاندھی کا اپنا انداز ان کی کامیابی کے بعد ایک نئی تاریخ رقم کرے گا جب یہ وائناڈ سے شاندار کامیابی حاصل کرتے ہوئے پارلیمنٹ ہاوز میں اپنا قدم رکھے گی۔ سیاست کو ان کی خاندانی وراثت کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کیونکہ شعور کی منزلوں میں قدم رکھتے ہی انہیں سیاسی ماحول میں پرورش نے عوام کے جذبات اور حالات کو سمجھنے کی صلاحیت بخشی ہے۔ یہ ٹھوس حقیقت ہے کہ محبت ڈھونڈنے والوں کو نہیں باٹنے والوں کو ملتی ہے دور جدید میں دوسروں کے دکھ درد کو محسوس کرتے ہوئے ان کے کام آنا ہی انسانیت کا دوسرا نام ہے۔ آج بہت کم لوگ رہ گئے عوام کے لئے جنون کی حد تک بے لوث انداز میں عوام کی خدمت کے لئے کوشاں ہے۔ گاندھی خاندان کی تاریخ رہی ہے ان کی قربانیاں بھی ملک کی عوام بھلا نہیں سکتی۔ آج پھر ایک بار راہول گاندھی اور پرینکا گاندھی نئے جوش و ولولہ کے ساتھ عوام کے درمیان پہنچ گئے ہیں اور ملک کی عوام نے بھی گزشتہ پارلیمانی انتخابات میں کانگریس اتحاد کو جو کامیابی بخشی ہے وہ سب کے سامنے عیاں ہے۔ اب ایک باصلاحیت خاتون کو ملک کی عوام پارلیمنٹ میں دیکھنے کی منتظر ہے۔ پرینکا گاندھی کی وائناڈ سے کامیابی صرف کیرالا کے حد تک نہیں بلکہ ملک کی مختلف ریاستوں پر بھی زبردست اثرات مرتب کرسکتی ہے۔ اس لئے کہ پرینکا گاندھی ایک باحوصلہ خاتون اور سیاستداں ہیں۔ ان کے تخیلات بلند ہیں شائد دریا کی طرح انہیں یقین ہے کہ جس طرف بھی چل پڑیں گی راستہ ہو جائے گا جب یہ وائناڈ سے کامیابی حاصل کرتے ہوئے پارلیمنٹ پہنچیں گی تو ملک کی سیاست میں تبدیل ممکن ہے۔