میری آخری سانس تک تلنگانہ ریاست سیکولر رہے گی :کے سی آر

   

امن چاہئے یا خون خرابہ عوام فیصلہ کریں، بی آر ایس کا دور اقتدار فسادات ، کرفیو اور فائرنگ سے پاک
حیدرآباد /3 نومبر ( سیاست نیوز ) چیف منسٹر کے سی آر نے کہا کہ جب تک وہ زندہ ہے تلنگانہ ریاست سیکولر رہے گی ۔ چند فرقہ پرست طاقتیں بھینسہ کو جنگ کے میدان میں تبدیل کرتے ہوئے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان مذہبی جذبات بھڑکانے کی کوشش کر رہے ہیں وہ کبھی فرقہ پرست طاقتوں کے ناپاک عزائم کو کامیاب ہونے نہیں دیں گے ۔ بی آر ایس کے 10 سالہ دور حکومت میں کبھی کوئی لاٹھی چارج نہیں ہوا اور نہ ہی فائرنگ کی نوبت آئی ہے ۔ تلنگانہ امن و امان کا گہوارہ بنا رہے یا خون خرابہ کے مرکز میں تبدیل ہوجائے اس پر عوام ہی غور کریں ۔ کانگریس کے جھوٹے وعدوں پر بھروسہ کیا گیا تو آئندہ 5 سال تک عوام کو ہر طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ اگر بی آر ایس کو کامیاب بنایا گیا تو وہ مفاد پرستوں اور فرقہ پرستوں کے سامنے ڈٹ جائیں گے ۔ ترقی اور بہبود کے معاملے میں تلنگانہ کو مثالی ریاست میں تبدیل کردیں گے ۔ چیف منسٹر کے سی آرنے آج اسمبلی حلقہ جات کورٹلہ آرمور اور مدہول کے انتخابی جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس اور بی جے پی کے خلاف سخت موقف اپنایا ۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد ، مدہول ، نرمل ،عادل آباد کے علاوہ ریاست کے دیگر علاقوں میں صدیوں سے ہندو مسلم شیر و شکر کی طرح آپس میں مل جل کر رہ رہے ہیں ۔ فرقہ پرست طاقتوں پر مذہبی جنون سوار ہوگیا ہے ۔ وہ سیاسی مفاد پرستی کیلئے ہندو مسلم اتحاد کو نقصان پہونچاتے ہوئے نفرت کے ماحول کو ہوا دے رہے ہیں ۔ بالخصوص بھینسہ کو جنگ کے میدان میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ جھوٹی افواہیں پھیلاتے ہوئے عوام کو ایک دوسرے کا دشمن بنانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ جس کا وہ گہرائی سے جائزہ لے رہے ہیں اور فرقہ پرست طاقتوں کے ناپاک عزائم کو کبھی کامیاب ہونے نہیں دیں گے ۔ وہ ( کے سی آر ) جب تک زندہ ہے ۔ تلنگانہ سیکولر ریاست رہے گی ۔ بی آر ایس کے 10 سالہ دور حکومت میں کبھی فرقہ وارانہ فسادات نہیں ہوئے نہ ہی کبھی لاٹھی چارج کیا گیا اور نہ ہی کبھی فائرنگ کی نوبت آئی ہے اور کبھی کرفیو بھی نافذ نہیں کیا گیا ہے ۔ تلنگانہ میں ہر طرف امن و امان ہے ۔ گذشتہ 10 سال کے دوران اقلیتوں کی ترقی اور بہبود کیلئے بڑے پیمانے پر اقدامات کیلئے کانگریس کے 10 سالہ دور حکومت میں اقلیتوں کی بہبود پر صرف 900 کروڑ روپئے خرچ کئے گئے جبکہ بی آر ایس کے د ور حکومت میں اقلیتی بہبود پر 12 ہزار کروڑ روپئے خرچ کئے گئے ۔ اقلیتوں کی تعلیمی پسماندگی کو دور کرنے کیلئے 204 میناریٹی ریسیڈنشیل اسکولس و کالجس قائم کئے گئے ۔ غریب لڑکیوں کی شادیوں کیلئے شادی مبارک اسکیم متعارف کرائی گئی ہے ۔ کانگریس کے جھوٹے وعدوں پر بھروسہ کیا گیا تو آئندہ پانچ سال تک عوام کو مشکلات سے دو چار ہونا پڑے گا۔ وزیر اعظم نریندر مودی پر خانگیانے کا بھوت سوار ہوا ہے ۔ تمام پبلک سیکٹرس کو خانگی شعبہ کے حوالے کیا جارہا ہے ۔ مرکزی حکومت نے ملک میں 157 میڈیکل کالجس قائم کئے مگر تلنگانہ کو ایک بھی میڈیکل کالج نہیں دیا گیا ۔ ایسی بی جے پی کو ووٹ کیوں دیں ۔ عوام اس پر غور کریں۔ 50 سال تک حکومت کرنے والی کانگریس پارٹی تلنگانہ کی ترقی کیلئے کوئی کام نہیں کیا ہے۔ آج انتخابات میں عوام کے سامنے پہونچکر ایک موقع دینے کی اپیل کر رہی ہے ۔ جھوٹے وعدے کرتے ہوئے عوام کو ہتھیلی میں جنت دیکھائی جارہی ہے۔ اگر کانگریس کے وعدوں پر بھروسہ کیا گیا تو عوام کو آئندہ پانچ سال تک مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ انتخابات آتے ہیں اور جاتے ہیں ۔ سونچ سمجھ کر فیصلہ نہیں کیا گیا تو تیز ترقی کرنے والی ریاست تلنگانہ تاریکی میں تبدیل ہوجائے گی ۔ جس کی زندہ مثال کرناٹک ہے ۔ کے سی آر جیسا چیف منسٹر پورے ملک میں کہیں بھی نہیں ہے ۔ لالچ کا شکار ہوکر عوام کے بارے میں فکر میں رہنے والے چیف منسٹر سے محروم نہ ہوجائے ۔ 10 سال کے دوران شہر اور دیہی علاقوں کی مساوی ترقی ہوئی ہے ۔ عوام کو بلاوقفہ 24 گھنٹے معیاری برقی دستیاب ہوئی ۔ زرعی شعبہ میں اصلاحات لاتے ہوئے سبز انقلاب برپا کیا گیا ہے ۔ فی کس آمدنی میں تلنگانہ سارے ملک میں سرفہرست ہے ۔ عوام کو تمام بنیادی سہولتیں فراہم کی جارہی ہے ۔ امن چاہئے یا تشدد عوام ہی فیصلہ کرلیں اگر بی آر ایس کو ووٹ دیا گیا تو وہ مزید جوش و خروش کے ساتھ عوام کی ترقی اور بہبود کے علاوہ ریاست کو ترقی دینے کیلئے کام کریں گے ۔ ن