میرے عملہ پر پولیس اسٹیشن میں نقاب پوشوں کا حملہ : کے ٹی آر

   

ڈی سی پی خیریت آباد زون شلپا ولی نے الزام کو مسترد کردیا، سی سی ٹی وی فوٹیج ہونے کا دعویٰ

حیدرآباد۔15۔ستمبر (سیاست نیوز) بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر نے حیدرآباد کے سیف آباد پولیس اسٹیشن میں اپنے پی آر او اور پی اے پر ہوئے مبینہ حملہ پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے حکومت اور پولیس انتظامیہ پر سنگین الزامات عائد کئے ہیں ۔ کے ٹی آر نے سوال کیا کہ پولیس اسٹیشن کے حدود میں نقاب پوش افراد ک یسے داخل ہوئے اور حملہ کرنے کی ہمت کس طرح کی ۔ بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ نے کہا کہ تفتیش کے نام پر صبح بلائے گئے ان کے پی آر او اور پی اے کو رات تک پولیس اسٹیشن میں بٹھایا گیا اور شام کے وقت تقریباً 15 نقاب پوش افراد نے ان پر حملہ کرنے کی کوشش کی ۔ کے ٹی آر نے اس بات کا م طالبہ کیا کہ پولیس اس بات کا انکشاف کرے کہ پولیس اسٹیشن میں داخل ہونے والے وہ نقاب پوش کون تھے ۔ کیا وہ کانگریس کے غنڈے تھے یا پھر سادہ کپڑوں میں ملبوس پولیس والے تھے ۔ بی آر ایس کے سینئر قائدین اور وکلاء نے پانچ گھنٹوں تک پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کروانے کی کوشش کی لیکن پول یس نے حملہ آوروں کے خلاف کیس درج کرنے سے صاف انکار کردیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ریاستی پولیس اپوزیشن پر دباؤ ڈالنے اور حکمراں جماعت کو بچانے کا کام کر رہی ہے ۔ اس لئے بی آر ایس اس معاملہ میں انصاف کیلئے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائے گی۔ دوسری جانب خیریت آباد زون کی ڈی سی پی شلپاولی نے حملہ کے ان تمام الزامات کو مسترد کردیا ہے ۔ پو لیس کا کہنا ہے کہ گنیش منڈپ کے لئے ڈی جی کی اجازت لینے آئے چند مقامی نوجوانوں اور کے ٹی آر کے عملہ کے درمیان تلخ کلامی ہوئی تھی ، تاہم سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق پولیس اسٹیشن کے اندر کوئی فزیکل حملہ یا تشدد نہیں ہوا ہے۔2/k