میونخ : میونخ سیکوریٹی کانفرنس میں متعدد ممالک کے سربراہان، سفارت کار اور سیکوریٹی ماہرین ملاقاتیں کر رہے ہیں، جب کہ یوکرینی تنازعہ اور مشرق وسطیٰ سے متعلق امریکی پالیسی میں ڈرامائی تبدیلیاں اس کانفرنس کے اہم موضوعات ہیں۔ میونخ سیکوریٹی کانفرنس میں اس بار یوکرینی تنازعہ اور مشرق وسطیٰ سے متعلق امریکی پالیسیوں میں غیرمعمولی تبدیلیوں کے سائے واضح طور پر دکھائی دے رہے ہیں۔ جمعہ کے روز امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا خطاب تین روزہ اجلاس کے سب سے زیادہ توجہ حاصل کرنے والے لمحات میں شامل ہے، جس میں یوکرینی صدر وولودیمیر زیلینسکی بھی شریک ہو رہے ہیں۔ اس کانفرنس میں شریک 60 عالمی رہنماؤں میں جرمن چانسلر اولاف شولز بھی شامل ہیں، جنہوں نے گزشتہ روز خبردار کیا تھا کہ امریکہ اور روس کے درمیان کوئی بھی امن مذاکرات، یوکرین اور یورپ کو شامل کیے بغیر ناقابل قبول ہوں گے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے درمیان ایک طویل ٹیلی فون کال میں یوکرینی تنازعہ پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔