ویجلینس تحقیقات میں انکشاف، تعمیری کمپنی اور خاطی عہدیداروں کے خلاف کارروائی کرنے کانگریس کا مطالبہ
حیدرآباد۔/23 جنوری، ( سیاست نیوز) میڈی گڈہ بیاریج کی ناقص تعمیر کے سلسلہ میں ویجلینس تحقیقات کے دوران 3200 کروڑ کی بے قاعدگیوں کا انکشاف ہوا ہے جبکہ مکمل پراجکٹ پر 3625.82 کروڑ خرچ کئے گئے۔ تلنگانہ حکومت نے میڈی گڈہ بیاریج کے پلرس کے زمین میں دھنس جانے کے معاملہ کی ویجلینس تحقیقات کا حکم دیا تھا اور تحقیقات میں 32 عہدیداروں کو قصوروارقرار دیا گیا ہے۔ بیاریج کے مرمتی کاموں کیلئے تقریباً 500 کروڑ درکار ہوں گے۔ نائب صدر پردیش کانگریس کمیٹی جی نرنجن نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے بی آر ایس دور حکومت میں پراجکٹس کی تعمیر میں بڑے پیمانے پر دھاندلیوںکا الزام عائد کیا اور کہا کہ جس کمپنی نے میڈی گڈہ بیاریج تعمیر کیا گیا اسے مرمتی کاموں کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیئے۔ پراجکٹ کی تعمیر کے دو سال تک کسی بھی نقائص کی صورت میں کمپنی درستگی کیلئے پابند ہے۔ یہ مہلت 2021 میں ختم ہوچکی ہے لہذا کنسٹرکشن کمپنی نے اپنی ذمہ داریوں سے خود کو الگ کرلیا ہے۔ نرنجن نے کہا کہ 21 اکٹوبر 2023 کو میڈی گڈہ بیاریج کی ناقص تعمیر کا معاملہ منظر عام پر آیا تھا اور سابق حکومت نے اسے معمولی نقص قرار دیتے ہوئے کوئی اہمیت نہیں دی حالانکہ کالیشورم پراجکٹ کے تحت یہ بیاریج اہمیت کا حامل ہے۔ اس وقت کے چیف منسٹر کے سی آر اور ریاستی وزراء کے ٹی آر اور ہریش راؤ نے پراجکٹ کا معائنہ کرنے کی زحمت تک نہیں کی۔ کانگریس برسراقتدار آنے کے بعد وزیر آبپاشی اتم کمار ریڈی اور دیگر وزراء نے پراجکٹ کا معائنہ کرتے ہوئے پاور پوائنٹ پریزنٹیشن دیا ہے۔ حکومت نے 7 جنوری کو ویجلینس تحقیقات کا حکم دیا ہے اور ویجلینس نے اپنی تحقیقات مکمل کرلی ہے۔ اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ پلرس کے دھنس جانے سے صرف ایک بلاک کو نقصان نہیں ہوا بلکہ دیگر بلاکس بھی نقصان کی زد میں آئے ہیں۔ میڈی گڈہ بیاریج 87 پلرس کے ساتھ 8 بلاکس پر محیط ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ 11 پلرس کو تبدیل کرنا پڑے گا۔ کنسٹرکشن کمپنی نے چیف ڈیزائننگ آفیسر سے جبراً ڈیزائن کی منظوری حاصل کی تھی اور تعمیری کام طئے شدہ ڈیزائن کے مطابق انجام نہیں دیئے گئے۔ پراجکٹ کی تکمیل کے ایک سال بعد نقائص کا پتہ چلا لیکن مرمتی کام انجام نہیں دیئے گئے جس کے نتیجہ میں بھاری نقصان ہوا ہے۔ سابق حکومت نے معاملہ کو دبانے کیلئے متعلقہ انجینئر کے ذریعہ پولیس میں شکایت درج کرائی اور انتہا پسند سرگرمیوں کو ذمہ دار قرار دیا۔ نرنجن نے کہا کہ ماہرین نے بیاریج کے مرمتی کاموں کو ناممکن قرار دیا ہے۔ نرنجن نے بیاریج کے ناقص کاموں کیلئے قصور کمپنی اور عہدیداروں کے خلاف کارروائی اور نقصانات کی پابجائی حاصل کرنے کا مطالبہ کیا۔1