’’میں راجستھان کا چیف منسٹر بول رہا ہوں ‘‘

   

حیدرآباد۔یکم مئی، ( سیاست نیوز) دھوکہ دہی کیلئے عوامی نمائندوں کے نام کا استعمال کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن آندھرا پردیش کے ایک دھوکہ باز انجینئر نے راجستھان کے چیف منسٹر اشوک گہلوٹ کے نام پر ایک رکن اسمبلی کو دھوکہ دینے کی کوشش کی۔ 28 سالہ کمپیوٹر انجینئر کو راجستھان کی الور پولیس نے وشاکھاپٹنم سے گرفتار کرلیا جس نے راجستھان کے ایک رکن اسمبلی سندیپ کمار سے بات چیت کرتے ہوئے خود کو چیف منسٹر اشوک گہلوٹ ظاہر کیا۔ ملزم پی وشنو مورتی نے رکن اسمبلی سے 24 اپریل کو واٹس ایپ چیاٹنگ کی اور اس کے اکاؤنٹ پروفائیل پر چیف منسٹر گہلوٹ کی تصویر تھی۔ ملزم نے رکن اسمبلی کو دوسرے موبائیل نمبر پر آن لائن ٹرانسفر کے ذریعہ 30 ہزار روپئے منتقل کرنے کی خواہش کی۔ اس نے ایک اور نئے نمبر سے رکن اسمبلی سے بات چیت کی جس کے بعد رکن اسمبلی کو شبہ ہوا۔ انہوں نے چیف منسٹر آفس سے ربط پیدا کرتے ہوئے دھوکہ باز کے بارے میں اطلاع دی۔ بھیلواڑی پولیس کو اطلاع دی گئی جس نے ایف آئی آر درج کرتے ہوئے خصوصی ٹیم تشکیل دی۔ تحقیقات کے دوران پتہ چلا کہ واٹس ایپ نمبر کا آئی پی اڈریس سنگا پور کا ہے۔ ملزم و ی پی این سرویس اور دیگر عصری ٹکنالوجی کا ماہر ہے۔ پولیس نے وشاکھاپٹنم سے ملزم کو حراست میں لے لیا اور تحقیقات پر پتہ چلا کہ 2019 میں دو وزراء اور تین ارکان اسمبلی جن کا تعلق آندھرا پردیش سے ہے خود کو چیف منسٹر جگن موہن ریڈی ظاہر کرتے ہوئے ایک کروڑ 80 لاکھ روپئے کا دھوکہ دیا تھا۔ ر