نئی دہلی کے عالمی کتاب میلے میں اردو کتابوں کے شائقین کا مجمع

   

نئی دہلی8 جنوری (سیاست ڈاٹ کام)سوشل میڈیا کے عروج کے زمانے میں بھی دہلی کے عالمی کتاب میلے کی شان حسب سابق برقرار ہے۔ میلے میں یوں تو مختلف زبانوں کی کتابیں دستیاب ہیں لیکن یہاں اردو کتابو ں کے اسٹالوں پر شائقین کی دلچسپی کے لئے منفرد موضوعات پر ایسی کتابیں زیادہ ہیں جنھیں سمجھنے اور خریدنے کے لئے لوگ بے تاب نظر آتے ہیں۔ سوشل میڈیا کے عروج کے زمانے میں بھی لوگوں کی کتابوں میں اتنی دل چسپی موجب حیرت ہی نہیں اطمینان بخش بھی ہے ۔ اگرچہ اس بار عالمی کتاب میلے میں اردو بک اسٹالوں کی کمی ہے لیکن جو پبلشر بھی یہاں شریک ہیں ان کے ہاں موضوعات کا تنوع اور تازہ بہ تازہ عنوانات کی کثرت ہے ۔شعروادب کی سکہ رائج الوقت سمجھی جانے والی کتابوں کے علاوہ تاریخ، سیاست، عمرانیات، فکشن، جاسوسی ادب اورعصری موضوعات پر بھی کتابیں دستیاب ہیں۔ ہمیشہ کی طرح غالب اور ساحر لدھیانوی کے مجموعوں کی رقنق کے ساتھ اس مرتبہ فیض احمد فیض اور حبیب جالب کے مجموعو ں کی لوگوں کو زیادہ تلاش ہے ۔شہریت ترمیمی قانون اور این آرسی جیسے موضوعات پر بھی لوگ کتابیں ڈھونڈتے نظر آئے۔ اجودھیا تنازعہ پر بالترتیب سرکردہ صحافی معصوم مرادآبادی اور معروف ہندی صحافی شیتلا سنگھ کی کتابیں، بابری مسجد کا آنکھوں دیکھا حال اور رام جنم بھومی۔ بابری مسجد کا سچ شائقین کی توجہ کا مرکزہیں۔رام جنم بھومی۔ بابری مسجد کا سچ کا اردو ایڈیشن فاروس میڈیا نے شائع کیاہے جبکہ بابری مسجد کا آنکھوں دیکھا حال کو معصوم مرادآبادی کی 53 سالہ صحافتی زند گی کا نچوڑقرار دا جارہا ہے ۔ میلے میں عالمی اردو ٹرسٹ کے اشتراک سے گیارہ جنوری کی شام مشاعرے کا انعقادسنسکرتی کنج میں کیا جائے گا جس کی صدارت روزنامہ انقلاب کے مدیر اعلیٰ شکیل شمسی کریں گے اور نظامت کے فرائض ڈاکٹر وسیم راشد انجام دیں گی۔یہ اطلاع ٹرسٹ کے سربراہ اے رحمان نے دی ہے ۔ ایشیا کے اس سب سے بڑے کتاب میلے میں قومی اردو کونسل دہلی، مغربی بنگال اور راجستھان کی اردو اکیڈمیوں کے علاوہ اردو بک ریویو، مرکزی مکتبہ اسلامی، ایم آر پبلی کیشنز جیسے اردو اشاعتی ادارے شرکت کررہے ہیں۔یہ عالمی کتاب میلہ 21 جنوری تک جاری رہے گا۔اس میلے کا اہتمام نیشنل بک ٹرسٹ نے پرگتی میدان میں کیا ہے اور یہاں بزرگوں اور طلبا کا داخلہ مفت ہے ۔