ہندوستان کی نئی صدر جمہوریہ شریمتی دروپدی مرمو آج اپنے عہدہ کا حلف لیں گی ۔ دروپدی مرمو پہلی قبائلی خاتون ہیں جو ملک کے اس اعلی ترین عہدہ پر فائز ہورہی ہیں۔ وہ ملک کی مسلح افواج کی سپریم کمانڈر بھی ہونگی ۔ جہاں تک خواتین کی بات ہے تو وہ شریمتی پرتیبھا پاٹل کے بعد دوسری خاتون صدر جمہوریہ ہونگی لیکن قبائلی طبقات سے تعلق رکھنے والی وہ پہلی خاتون ہیں جو ا س عہدہ تک پہونچی ہیں۔ این ڈی اے نے انہیں صدارتی انتخاب میں امیدوار بنایا تھا اور جو رائے دہی ہوئی اس میں انہیں کامیابی حاصل ہوئی ہے ۔ دروپدی مرمو نے اپنا عوامی زندگی کا سفر بی جے پی کی ایک کارپوریٹ سے کیا تھا اور وہ ملک کے اعلی ترین اور جلیل اقدر عہدہ تک پہونچنے میں کامیاب رہی ہیں۔ وہ گورنر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دے چکی ہیں۔ ایک کارپوریٹر سے صدرج مہوریہ ہند تک کا سفر آسان نہیں ہوتا اور اس کیلئے ایک طویل سیاسی اور عوامی زندگی گذارنی ہوتی ہے جو شریمتی دروپدی مرمو نے کامیابی کے ساتھ طئے کی ہے ۔ ایک کارپوریٹر سے صدر جمہوریہ ہند کے عہدہ تک کا ان کا سفر جہاں ان کی اپنی ایک بڑی اورا ہم ترین کامیابی ہے اور ہندوستان کیلئے بھی یہ ایک باوقار بات ہے وہیں یہ ہندوستانی جمہوریت کا بھی طرہ امتیاز کہا جاسکتا ہے ۔ یہ ملک کی جمہوریت ہی کا نتیجہ ہے کہ وہ ایک کارپوریٹر سے لے کر ملک کے صدر تک کا سفر کامیابی کے ساتھ طئے کر پائی ہیں۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ ہندوستانی جمہوریت کتنی منفرد اور شاندار ہے اور میں نچلی سطح سے اعلی ترین سطح تک کا سفر کرنا ممکن ہے ۔ اس کیلئے حالانکہ انتہائی صبر آزما جدوجہد کی بھی ضرورت ہوتی ہے لیکن یہ جدوجہد بھی صرف جمہوری عمل کے استحکام کی وجہ سے ممکن ہوسکتی ہے ۔ ملک میں کئی مثالیں موجود ہیں جہاں معمولی اور عام طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد بھی اعلی ترین عہدوں پر فائز ہونے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ یہ سب کچھ ہندوستان کی جمہوریت کی وجہ سے ممکن ہوسکتا ہے اور ہماری جمہوریت اسی لئے ساری دنیا میں ایک منفرد شناخت کی حامل ہے اور اس کا دنیا بھر میں احترام بھی کیا جاتا ہے ۔
جس طرح سے شریمتی دروپدی مرمو نے یہ طویل اور شاندار سفر طئے کیا ہے اس کو دیکھتے ہوئے ہمیں اپنی جمہوریت پر فخر کرنے کی ضرورت ہے ۔ ساتھ ہی اس بات کا عزم کرنے کی ضرورت ہے کہ ہر ہندوستانی اس جمہوریت کا تحفظ کرے گا جو ایک عام آدمی کو ہندوستان کا اولین شہری بنانے میں اہم رول ادا کرتی ہے ۔ ہماری جمہوریت کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے اور جمہوری عمل کو داغدار کرنے کی بھی کئی گوشوں کی جانب سے کوششیں ہوتی ہیں۔ جمہوریت کے ساتھ کھلواڑ کیا جاتا ہے ۔ اس کا مضحکہ بنادیا جاتا ہے ۔ اس کو کمزور کرنے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔ اس کے نتیجہ میں ہمارے عوام کا اعتماد جمہوریت پر کبھی کبھار متزلزل ہونے لگتا ہے ۔ ہم اپنی آزادی کے سات دہوں میں جمہوریت کو اس حد تک مستحکم کرنے میں کامیاب رہے ہیں کہ اس کے ذریعہ عام آدمی اپنی عوامی اور سیاسی زندگی کے سفر کو بے خوف پورا کرسکتا ہے ۔ آج ہر ہندوستانی شہری کو اس بات کا احساس کرنے کی ضرورت ہے کہ جس طرح ملک کی سلامتی اور سرحدات کی حفاظت انتہائی ضروری ہے اسی طرح ملک کی جمہوریت کا بھی تحفظ کیا جانا چاہئے ۔ جمہوریت کو داغدار کرنے اور اس کو کھوکھلا کرنے کی کوششوں کے خلاف ہمیں کمر کسنے کی ضرورت ہے ۔ چاہے اقتدار پر فائز افراد ہوں یا پھر اقتدار حاصل کرنے کے خواہاں طبقات ہوں سبھی کو اس معاملے میں ایک عزم کرنے کی ضرورت ہے اور دنیا بھر میں ہماری جمہوریت کی جو مثال دی جاتی ہے اس کو برقرار رکھنے کیلئے آگے آنا ہوگا ۔
ملک میں جمہوریت کا استحکام اسی وقت ممکن ہوسکتا ہے جب جمہوری اداروں کا تحفظ کیا جائے ۔ ان کے استحصال کا سلسلہ روکا جائے ۔ جمہوریت کے نام پر سیاسی کھیل نہ کھیلا جائے اور سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے سے گریز کیا جائے ۔ شریمتی دروپدی مرمو کے صدر جمہوریہ ہند کی حیثیت سے انتخاب نے جمہوریت کی انفرادیت اور اس کی افادیت کو ایک بار پھر اجاگر کردیا ہے اور سارے عوام کو اس پر فخر ہونا چاہئے ۔ شریمتی دروپدی مرمو ایک انتہائی اہم وقت میں ملک کا یہ اعلی ترین عہدہ سنبھال رہی ہیں اور ان سے ہر ہندوستانی کو امید ہے کہ وہ ملک میں جمہوریت کو مستحکم کرنے میں اپنی جانب سے کوئی کسر باقی نہیں رکھیں گی ۔
