ناقص میٹریل کا استعمال، سکریٹریٹ کی تعمیر میں خطرہ کا اندیشہ برقرار

   

الیکٹرانک اشیاء کی خریدی میں 320 کروڑ کی بدعنوانی، ویجلنس کی جانچ میں انکشاف
حیدرآباد ۔ 22 فبروری (سیاست نیوز) ویجلنس اینڈ انفورسمنٹ ڈپارٹمنٹ کی جانچ رپورٹ میں پتہ چلا ہیکہ سکریٹریٹ کی تعمیر میں نہ صرف معیار کے بہت سے نقائص پائے گئے ہیں بلکہ کمپیوٹرس و الیکٹرانک اشیاء کی خریدی میں بڑے پیمانے پر گول مال ہونے کی نشاندہی کرتے ہوئے حکومت کو رپورٹ پیش کردی ہے۔ حال ہی میں سکریٹریٹ کی چھت سے پتھر کا ایک بڑا ٹکڑا گر گیا جس کے بعد محکمہ آر اینڈ بی نے سکریٹریٹ کے معیار پر رپورٹ دینے کا حکم دیا تھا۔ اس تناظر میں عہدیداروں نے تعمیرات میں استعمال ہونے والے میٹریل کا جائزہ لیا۔ بعدازاں اس کے ریکارڈس کی بھی جانچ پڑتال کی گئی۔ سکریٹریٹ کے تعمیری ڈھانچہ، عمارت کے پلرس اور سلابس کے علاوہ باقی دیگر اچھے معیار کے نہ ہونے کی نشاندہی کی گئی۔ سکریٹریٹ کے خوبصورت نظر آنے والے ڈیزائن کیلئے پلاسٹر آف پیرس جیسا میٹریل کا استعمال کیا گیا۔ ویجلنس کی رپورٹ میں یہ نتیجہ بھی اخذ کیا گیا ہیکہ وہ کبھی بھی اور کسی بھی وقت گر سکتے ہیں۔ ماہرین نے اس کی جگہ کسی دوسرے میٹریل کا استعمال کیا جاتا تو فائدہ مند ہونے کا مشورہ دیا۔ اب جو میٹریل استعمال کیا گیا وہ کسی بھی وقت گرنے کے خطرات ہیں۔ سابق حکومت کی جانب سے سکریٹریٹ کی تعمیر سے متعلق سرٹیفکیٹ جاری نہ کرنے کا علم ہوا ہے۔ بی آر ایس حکومت نے سکریٹریٹ کی تعمیر کیلئے 500 تا 600 کروڑ روپئے جاری کیا جبکہ ویجلنس کی عارضی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہیکہ جملہ تخمینہ 1,500 کروڑ روپئے تک ہے۔ ویجلنس عہدیداروں نے سکریٹریٹ میں ضروری کمپیوٹرس اور الیکٹرانک آلات کی خریداری میں بھی بڑے پیمانے کی بدعنوانیاں ہونے کی نشاندہی کی ہے جس پر 320 کروڑ روپئے خرچ کئے گئے ہیں لیکن یہ پتہ چلا ہیکہ محکمہ فینانس کی منظوری کے بغیر مرحلہ وار اساس پر یہ آلات خریدے گئے ہیں۔ اگر انہیں ایک ساتھ خریدے جاتے تو اس پر بہت زیادہ لاگت آئے گی۔ اس کیلئے محکمہ فینانس اور حکومت سے اجازت لینی پڑتی تھی اور کیوں خریدا جارہا ہے اس کا جواب دینے سے گریز کرنے کیلئے اس طرح کا منصوبہ تیار کرنے کے شکوک کا اظہار کیا جارہا ہے۔ اس کی بھی ویجلنس نے حکومت کو رپورٹ پیش کی ہے۔ سکریٹریٹ کے تمام کمپیوٹرس، فونس، ہارڈویر، ٹیلیویزنس و دیگر الیکٹرانکس اشیاء کیلئے 320 کروڑ روپئے سے زیادہ خرچ کرنے کا رپورٹ میں تذکرہ کیا گیا ہے۔ الیکٹرانک آلات کی خریدی میں قواعد کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔2