مخالف لہر کے سبب امیدوار تبدیل، پرانے شہر کیلئے کانگریس کی نئی منصوبہ بندی
حیدرآباد 3نومبر (سیاست نیوز) کانگریس نے دعویٰ کیا کہ اسمبلی انتخابات میں مجلس کی کم از کم تین نشستوں کو چھیننے میں کامیابی حاصل ہوگی۔ صدر حیدرآباد ضلع کانگریس کمیٹی سمیر ولی اللہ نے کہا کہ حیدرآباد بالخصوص پرانے شہر میں کانگریس کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے اور مجلس کے خلاف عوامی ناراضگی کے سبب کم از کم تین نشستوں پر مجلس کی کامیابی دشوار ہوچکی ہے۔ کانگریس نے مجلس سے مقابلہ کیلئے پرانے شہر میں خصوصی حکمت عملی تیار کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چارمینار ، یاقوت پورہ و نامپلی حلقہ جات میں کانگریس کی کامیابی یقینی ہے۔ سمیر ولی اللہ نے کہا کہ صدر مجلس اسد اویسی نے شکست کے خوف سے تینوں حلقوں کے امیدواروں کو تبدیل کردیا ہے ۔ موجودہ دو ارکان اسمبلی کو ٹکٹ سے محروم کردیا گیا اور تینوں حلقہ جات میں نئے چہرے متعارف کئے گئے۔ یہ خود اس بات کا ثبوت ہے کہ مجلس ان حلقہ جات میں اپنی گرفت کھوچکی ہے۔ پرانے شہر کی ترقی اور عوام کی بھلائی میں مجلس کے ارکان اسمبلی ناکام ہوچکے ہیں۔ سمیر ولی اللہ نے کانگریس کے مینارٹیز ڈکلیریشن میں اقلیتی بہبود کیلئے5000 کروڑ بجٹ اور سب پلان کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ اقلیتی طبقہ کے نوجوانوں کو سالانہ ایک لاکھ روپئے کی امداد کی جائے گی تاکہ وہ خود روزگار اسکیمات سے وابستہ ہوں۔ ائمہ اور مؤذنین کے ماہانہ اعزازیہ میں اضافہ کرتے ہوئے علی الترتیب 10,000 روپئے اور 8,000 روپئے دیا جائے گا۔ درگاہوں کے خادمین کوماہانہ 10,000 روپئے اعزازیہ مقرر کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس برسر اقتدار آنے پر سٹ ون ، قلی قطب شاہ ڈیولپمنٹ اتھاریٹی اور موسی ریور ڈیولپمنٹ بورڈ کا احیاء کیا جائے گا ۔ پرانے شہر میں میٹرو ریل کے کاموں کا برسر اقتدار آتے ہی ایک ماہ میں آغاز کرتے ہوئے 12 ماہ میں تکمیل کی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ پرانے شہر کے حلقہ جات میں کامیابی کے ذریعہ کانگریس نئی تاریخ رقم کرے گی۔