نامپلی کے بعد ملک پیٹ میں بھی مجلس کو سخت مقابلہ کے امکانات

   

مظفر علی خاں اور وجئے سمہا ریڈی کی کانگریس میں شمولیت سے حالات میں تیز رفتار تبدیلیاں
حیدرآباد۔31۔اکٹوبر(سیاست نیوز) انتخابی اعلامیہ کی اجرائی کے دن جس تیزی سے قریب آرہے ہیں اسی تیزی سے شہرکے حلقہ جات اسمبلی کے رجحانات تبدیل ہونے لگے ہیں ۔ دونوں شہروں میں گذشتہ ہفتہ سے حلقہ چارمینار و یاقوت پورہ کے موضوع بحث بنے رہنے کے دوران حلقہ ملک پیٹ اور نامپلی پر کسی کی توجہ نہیں تھی لیکن نامپلی میں کانگریس کے مستحکم موقف کے سبب اس نشست پر شہری آپس میں تبادلہ خیال کر رہے تھے لیکن حلقہ اسمبلی ملک پیٹ کو مسلسل نظرانداز کیا جاتا رہا ہے مگر ملک پیٹ کی صورتحال میں بھی اب تبدیلی آنے لگی ہے اور کانگریس امیدوار شیخ اکبر کو ملنے والی مقبولیت کے بعد مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔ گذشتہ یوم سابق میں دو مرتبہ ملک پیٹ سے تلگودیشم ٹکٹ پر مقابلہ کرنے والے جناب مظفر علی خان کی کانگریس میں شمولیت اور ان کے ساتھ 2009 میں کانگریس ٹکٹ پر مقابلہ کرچکے وجئے سمہا ریڈی کے دوبارہ کانگریس میں شمولیت کے فیصلہ کے بعد حلقہ اسمبلی ملک پیٹ بھی عوام کیلئے مرکز توجہ بن چکا ہے ۔ حلقہ اسمبلی چارمینار و یاقوت پورہ سے مجلسی امیدواروں پر تجسس اور ممتاز احمد خان کے متعلق قیاس آرائیوں کے دوران کہا جا رہاہے کہ ان حلقوں پر جو حالات پیدا ہوں گے اس کا انحصار ممتاز احمد خان کے فیصلہ پر ہوگا جبکہ حلقہ نامپلی سے کانگریس امیدوار فیروز خان سے مجلسی امیدوار کو سخت مقابلہ کا امکان ہے لیکن اب جبکہ حلقہ اسمبلی ملک پیٹ کے تلگودیشم قائد جناب مظفر علی خان نے کانگریس میں شمولیت اختیار کرلی تو ملک پیٹ میں بھی سخت مقابلہ کے امکانات پیدا ہونے لگے ہیں ۔ کہا جا رہاہے کہ کانگریس امیدوار کے خلاف گذشتہ جمعہ کو مجلسی کارکنوں کی نعرہ بازی کے علاوہ مجلسی متوقع امیدوار و موجودہ رکن اسمبلی احمد بن عبداللہ بلعلہ کی حلقہ میں سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے کہا جا رہاہے کہ جس انداز میں وہ مختلف گروپس سے ملاقات کرکے دعوتوں کا اہتمام کر رہے ہیں اس سے یہ واضح ہورہا ہے کہ وہ امکانی خطرات سے آگاہ ہوچکے ہیں۔ ملک پیٹ میں کانگریس امیدوار کی سرگرمیاں اور ان کے انداز کے متعلق جناب مظفر علی خان کا کہناہے کہ امیدوار مضبوط اور سخت مقابلہ کے اہل ہیں۔ جناب مظفر علی خان نے بتایا کہ حلقہ ملک پیٹ میں مجلس کے مقابلہ کیلئے مسلم ووٹ کے ساتھ سیکولر ووٹ پر توجہ ضروری ہے اور انہیں یقین ہے کہ مجوزہ انتخابا ت میں ملک کے حالات کو دیکھتے ہوئے عوام کانگریس کے امیدواروں کو کامیاب بنائیں گے۔ انہو ںنے کانگریس میں شمولیت پر کہا کہ وہ طویل مدت سے ملک میں فروغ حاصل کر رہی فرقہ واریت کے متعلق متفکر تھے لیکن راہول گاندھی کی قیادت میں کانگریس جس انداز میں آر ایس ایس اور بی جے پی کا مقابلہ کر رہی ہے اسے دیکھتے ہوئے انہوں نے کانگریس کے ساتھ کھڑے ہو کر فرقہ پرستی کے خاتمہ کیلئے جدوجہد کا فیصلہ کیا ہے۔ حلقہ ملک پیٹ کے تبدیل ہورہے حالات کو دیکھتے ہوئے کہا جار ہاہے کہ نامپلی ‘ چارمینار و یاقوت پورہ کے علاوہ ملک پیٹ میں مجلسی امیدواروں کو سخت مقابلہ ہوسکتا ہے لیکن امیدواروں کے ناموں کا اعلان کے بعد ہی کوئی قطعی نظریہ قائم کیا جاسکتا ہے۔