حیدرآباد۔ 4 جنوری (سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ نے جوابی حلف نامہ داخل کرنے میں کوتاہی اور مکمل تفصیلات کی عدم فراہمی پر وزارت داخلہ پر ناراضگی جتائی۔ پولیس عہدیداروں کی جانب سے سرچ وارنٹ کی اجرائی اور تکمیل کے اختیار کو چیالنج کرتے ہوئے ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کی گئی ہے۔ چیف جسٹس اپریشن کمار سنگھ اور جسٹس جی ایم محی الدین پر مشتمل بنچ نے اسسٹنٹ کمشنر رینک کے عہدیداروں کو وارنٹ کی اجرائی اور تکمیل کے اختیارات کے بارے میں وضاحت طلب کی۔ درخواست گذار وجئے گوپال نے عدالت میں شخصی طور پر پیش ہوتے ہوئے مقدمہ کی پیروی کی۔ انہوں نے کہا کہ پولیس عہدیدار اختیارات کا بیجا استعمال کرکے رات دیر گئے مکانات کی تلاشی لے رہے ہیں اور عوام سے شناختی دستاویزات طلب کئے جارہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جوڈیشل فرسٹ کلاس مجسٹریٹ کے اختیارات کا پولیس کی جانب سے استعمال کیا جارہا ہے۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے وزارت داخلہ کی جانب سے محض 3 صفحات پر مشتمل جوابی حلف نامہ کے ادخال پر ناراضگی کا اظہار کیا۔ حلف نامہ کے ساتھ کوئی دستاویزات پیش نہیں کئے گئے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سرکاری محکمہ جات کیلئے یہ معمول بن چکا ہے کہ وہ جوابی حلف نامہ داخل کرنے میں یاتو تاخیر کررہے ہیں یا نامکمل تفصیلات فراہم کی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کے اختیارات پر تفصیلی مباحث کی ضرورت ہے۔ عدالت نے جامع حلف نامہ داخل کرنے حکومت کو 2 ہفتوں کی مہلت دی۔ 1
