نفرت کے سوداگر پھر آزاد

   

Ferty9 Clinic

بہت اچھا لبادہ ہے مگر قد سے زیادہ ہے
بڑے گہرے معانی ہیں ، بظاہر بات سادہ ہے
ملک کی پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات سے قبل ہردوار میںمہا پنچایت کرتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف نسل کشی کی ترغیب دینے ‘ ہندووں کو ہتھیار جمع کرنے اور مسلمانوں کے خلاف ہتھیار اٹھالینے کی تلقین کرنے والے نفرت کے سوداگر ایک بار پھر سرگرم ہوگئے ہیں۔ ہردوار مہا پنچایت میں ملک کے قانون کی دھجیاںاڑانے جیسے بیانات دینے والے ان جنونی عناصر کے خلاف اترکھنڈ پولیس نے ایک ماہ کا عرصہ لگا کر مقدمہ درج کیا تھا پھر کہیں جا کر ان کی گرفتاری ہوئی تھی ۔ تاہم ایک ماہ کے وقفہ میں ان کی ضمانت ہوگئی اور وہ جیل سے رہا ہوگئے ۔ جیل سے رہائی کے بعد بھی ان کی سرگرمیوں میں کوئی کمی نہیں آئی ہے اور یہ ایک بار پھر ملک میں نفرت پھیلانے اور ہندو ۔ مسلمان کے مابین خلیج کو بڑھانے کیلئے سرگرم ہوگئے ہیں۔ نئی دہلی کے براری علاقہ میں ان جنونی متعصب ذہن افراد کا ایک اور اجتماع منعقد ہوا جس میں ایک بار پھر مذہبی منافرت پھیلانے کی کھلے عام کوشش کی گئی ۔ اس اجلاس میں بھی مسلمانوں کے قتل عام کی باتیں کہی گئیں۔ یہاں بھی ہندووں سے کہا گیا کہ وہ ہتھیار اٹھالیں اور ہتھیاروں کا ذخیرہ کریں۔ کہا گیا کہ اگر کوئی مسلمان ملک کا وزیراعظم بن جاتا ہے تو نصف سے زیادہ ہندو برادری اسلام قبول کرلے گی ۔ یہ لوگ انتہائی جنون کا شکار ہیں۔ ان کی ذہنیت پراگندہ ہوگئی ہے ۔ وہ صرف اسلام دشمنی کو ہی زندگی کا اصول بنائے ہوئے ہیں۔ انہیں اس بات کی کوئی فکر نہیں ہے کہ ان کی اس بیمار ذہنیت کے نتیجہ میں ملک کے قانون اوردستور میں فراہم کردہ گنجائش کی خلاف ورزی ہو رہی ہے ۔ ملک کا پرامن ماحول متاثر ہو رہا ہے ۔ سماج میں نفرت بڑھ رہی ہے ۔ لوگ ایک دوسرے کے تعلق سے مشکوک ہوگئے ہیں۔ کسی پر بھروسہ کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ ایک دوسرے سے خوف محسوس کرنے لگے ہیں۔ ہندوستان کی جو انفرادیت کثرت میں وحدت کی تھی وہ متاثر ہو رہی ہے ۔ بین الاقوامی سطح پر ملک کی بدنامی اور رسوائی ہو رہی ہے ۔ اس کے باوجود یہ عناصر کسی کو خاطر میں لانے تیار نہیں ہیں۔ اپنی بیمار ذہنیت کا مسلسل اظہار کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔
ایسے عناصر کو اس بات کی بھی کوئی پرواہ نہیں رہ گئی ہے ملک کے سماجی تانے بانے متاثر ہو رہے ہیں۔ ملک کی ترقی پر اس کے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ان عناصر کی حوصلہ افزائی کی اصل وجہ یہ ہے کہ کئی ریاستی حکومتیں اور نفاذ قانون کی ایجنسیاں اپنے فرائض کی انجام دہی میں ناکام ہو رہی ہیںیا تغافل سے کام لیا جا رہا ہے ۔ اگر ان عناصر کے خلاف واقعی قانون کے مطابق کارروائی کی جائے ۔ انہیں کیفر کردار تک پہونچا دیا جائے اور ان سے کسی طرح کی رعایت نہ کی جائے تو ان کے ہوش ٹھکانے آسکتے ہیں۔ یہ دوسروں کیلئے بھی عبرت کا مقام بن سکتے ہیں۔ ریاستی حکومتیں ہو یا پھر تحقیقاتی ایجنسیاں ہوں ایسا لگتا ہے کہ اس معاملے میں وہ بھی ذمہ دار ہیں۔ ایسے جنونی اور فرقہ پرست عناصر کے خلاف کارروائی کرنے میںعمدا تاخیر کی جاتی ہے ۔ ان کے ساتھ نرم رویہ اختیار کیا جاتا ہے ۔ مقدمات ایسے درج کئے جاتے ہیں جن سے انہیں سزا ملنی تو دور کی بات ہے خود استغاثہ کو مشکل پیش آئے ۔ ان جنونی اوربیمار ذہن افراد کو بچانے پر خاص توجہ دی جاتی ہے ۔ انہیں سزائیں دلانے کی بجائے ان کی حوصلہ افزائی کے طریقے اختیار کئے جاتے ہیں جن کی وجہ سے یہ عناصر ملک کے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے ماحول کو درہم برہم کرنے پر آمادہے ہیں۔ مسلسل اپنی بیمار ذہنیت کا اظہار کرتے ہوئے سماج میں نفرت کے بیج بو رہے ہیں۔ یہ بیج اب طاقتور پودوں کی شکل اختیار کر تے جا رہے ہیں جس کے نتیجہ میں ملک کا ماحول متاثر ہو کر رہ گیا ہے ۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ اس طرح کے جنونیت کا شکار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے ۔ ان کی نام نہادمذہبی شناخت یا ان کے لبادوںسے مرعوب ہونے یا پھر سیاسی وابستگی کا خیال کئے بغیر ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے ۔ دو جنونیوں کے خلاف اگر کارروائی کرتے ہوئے انہیںسزائیںدلائی جائیں تو دوسروں کیلئے یہ عبرت کا نشان بن جائیں گے ۔ ان کے ہمنوا جو عناصر ہیں ان کی حوصلہ شکنی ہوگی ۔ وہ بھی ملک کے قانون اور دستور کی اہمیت کو سمجھنے پر مجبور ہوجائیں گے ۔ ایسے عناصر کو ملک کے ماحول کو مزید پراگندہ کرنے کی اجازت نہیںدی جانی چاہئے اور فوری کیفر کردار تک پہونچایا جانا چاہئے ۔