نواحی علاقوں میں تالابوں میں گندگی چھوڑنے سے زیر زمین پانی آلودہ

   

رنگا ریڈی ضلع زیادہ متاثر۔ عوام کی صحت پر بھی منفی اثرات ۔ فوری کارروائی ضروری
حیدرآباد۔14فروری(سیاست نیوز) شہر کے نواحی علاقوں میں تالابوں میں چھوڑی جانے والی گندگی ضلع رنگاریڈی میں زیر زمین پانی کو آلودہ کر رہی ہے اور اس کے شہریوں پر منفی اثرات مرتب ہونے لگے ہیں لیکن اس کے باوجود حکومت و محکمہ ماحولیات و دیگر متعلقہ ادارہ جات سے مکمل خاموشی اختیار کی گئی ہے جو کہ مستقبل میں خطرناک ثابت ہونے کا اندیشہ ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ حکومت نے جن صنعتی اداروں کو ماحولیاتی آلودگی پھیلانے والے اداروں کی فہرست میں شامل کیا ہے ان کارخانوں کو اب بھی چلایا جارہا ہے جو افسوسناک ہے۔ متحدہ رنگاریڈی کے علاقوں کتور‘ ایلی کٹہ ‘ کاٹے دھن‘ تانڈور ڈگا‘ کیشم پیٹ و دیگر علاقوں میں سیلنگ کیلئے تیار کی جانے والی جپسم صنعتوں کی جانب سے آلودہ پانی تالابوں میں بہایا جانے لگا ہے جو کہ زیر زمین پانی کو آلودہ کررہا ہے اور ماحولیات کے تحفظ کیلئے جدوجہد کرنے والوں اور تنظیموں کے ذمہ داروں نے متعدد شکایات کی ہیں کہ پانی آلودہ ہونے سے بچوں اور حاملہ خواتین کو مسائل کا سامناکرنا پڑرہا ہے اس کے باوجود کسی ادارہ یا محکمہ کی جانب سے کوئی سرکاری مدد عوام کو نہیں ملی ۔ بتایاجاتا ہے کہ ان علاقوں میں جملہ 25 کنٹے ہیں اور ان میں جپسم کا کام کرنے والوں کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے زیر زمین پانی آلودہ ہورہا ہے۔ ذرائع کے مطابق ان علاقو ںمیں ادویات کمپنیاں بھی غیر قانونی چلائی جا رہی ہیں اور ان کمپنیوں سے کمپنی میں گڑھا کھود کرآلودہ پانی کی نکاسی کی جا رہی ہے اور ان اقدامات کے سبب زیر زمین پانی میں درکار آکسیجن نہ پایا جانا عوام کیلئے کئی بیماریوں کا سبب بن رہا ہے۔ پانی میں آکسیجن کی مقدار میں گراوٹ کو ماحولیاتی آلودگی کے مخالف کارکنوں کی جانب سے تشویشناک قرار دیا جا رہاہے اور کہا جا رہاہے کہ حکومت کو فوری حرکت میں آکر ان غیر قانونی صنعتی اداروں کو بند کروانا چاہئے کیونکہ یہ غیر قانونی سرگرمیاں شہریوں کی زندگیوں سے کھلواڑ ثابت ہونے لگی ہیں۔ اس مسئلہ پر اگر یونہی خاموشی اختیار کی جاتی ہے تو اس کے اثرات شہر کے زیر زمین پانی پر مرتب ہونے لگ جائیں گے اور زیر زمین پانی ناقابل استعمال ہوکر رہ جائے گاکیونکہ آلودہ صنعتوں سے خارج ہونے والی آلودگی زیر زمین پانی میں سرائیت کرنے لگی ہے۔م