جامعہ نظامیہ کا تلنگانہ ہائیکورٹ میں جوابی حلفنامہ داخل

   

رائے درگ وقف اراضی مقدمہ …………

حیدرآباد۔24۔ستمبر۔(سیاست نیوز) جامعہ نظامیہ وقف اراضی رائے درگ کے معاملہ میں تلنگانہ ہائی کورٹ میں دائر کردہ مقدمہ میں ’جامعہ نظامیہ ‘ نے اپنا جوابی حلفنامہ داخل کردیا ہے لیکن وقف بورڈ اور محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے اب تک کوئی جوابی حلف نامہ داخل نہیں کیا گیا ۔ جامعہ نظامیہ کی 510ایکڑ 35 گنٹہ اراضی کے تحفظ کیلئے عدالت میں داخل کی گئی درخواست میں محکمہ مال ‘ تلنگانہ انڈسٹریل انفراسٹرکچر کارپوریشن کے علاوہ ضلع کلکٹر رنگاریڈی کی جانب سے جوابی حلف نامہ داخل کرتے ہوئے اس اراضی پر اپنا دعویٰ پیش کیاگیا تھا اور ضلع کلکٹر رنگاریڈی کو چیف اکزیکٹیو آفیسر تلنگانہ وقف بورڈ کی جانب سے مکتوب روانہ کرتے ہوئے سروے نمبر 83/1 رائے درگ پان مقطعہ کی اراضی کی تفصیلات اور دستاویزات طلب کئے جانے پر ضلع انتظامیہ کے وکیل نے عدالت میں سی ای او کے مکتوب کو پیش کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا کہ سی ای او وقف بورڈ نے ضلع کلکٹر کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے یہ تفصیلات طلب کی ہیں جو کہ یہ ثابت کرتا ہے کہ وقف بورڈ کے پاس مذکورہ جائیداد کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔ سی ای او کے اس مکتوب پر سی ایم او کے عہدیداروں نے سی ای او کو طلب کرتے ہوئے شدید برہمی کا اظہار کیا تھا ۔تفصیلات کے مطابق سی ایم او عہدیداروں نے وقف بورڈ عہدیدارو ںکو اس بات کا پابند بنایا کہ وہ (سلسلہ صفحہ 9 پر)

رائے درگ پان مقطعہ کے سروے نمبر 83/1 کی تفصیلات حاصل کرنے کی کوشش نہ کریں اور جامعہ نظامیہ کی اراضی کے معاملہ میں دائر کئے گئے مقدمہ میں کسی بھی طرح کے ادعا جات کو پیش کرتے ہوئے معاملہ کو مزید الجھانے کی کوشش نہ کریں۔ ذرائع کے مطابق وقف بورڈ اور محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کو چیف منسٹر کے دفتر میں خدمات انجام دینے والے عہدیداروں کے اس انتباہ کے بعد ’جامعہ نظامیہ ‘ کی اراضی کے معاملہ میں وقف بورڈ کے عہدیدار مکمل خاموشی اختیار کرچکے ہیں۔جامعہ نظامیہ کے انتظامیہ کی جانب سے عدالت میں داخل کئے گئے جوابی حلف نامہ میں جامعہ نظامیہ نے مذکورہ اراضی کے وقف اور جامعہ کی ملکیت ہونے کے ادعا کو دہراتے ہوئے کہا کہ مذکورہ اراضی کے معاملہ میں تلنگانہ ہائی کورٹ میں ہی ایک CRP سیول ریویژن پیٹیشن(درخواست نظرثانی) زیر التواء ہے۔مذکورہ مقدمہ میں جامعہ نظامیہ کی جانب سے جناب متین قریشی ایڈوکیٹ نے جوابی حلفنامہ داخل کرتے ہوئے جامعہ نظامیہ کے موقف کوپیش کیا ہے۔3