مسجد عالم گیر گٹالہ بیگم پیٹ میں نمازِ جمعہ سے قبل مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی ندوی کا فکر انگیز خطاب
حیدرآباد۔20جنوری (راست) ملک کے معروف عالم دین حضرت مولانا خلیل الرحمٰن سجاد نعمانی ندوی مدظلہ العالی نے 19 جنوری 2024 بروز جمعہ مسجد عالمگیر، گٹالہ بیگم پیٹ، حیدرآباد، تلنگانہ میں نمازِ جمعہ سے قبل عالمی حالات کے تناظر میں زبردست خطاب کیا۔مولانا نعمانی نے کہا کہ قرآن کو نہ سمجھنا کتنا نقصان دہ ہے۔لوگ نماز کے نہ پڑھنے کو گناہ سمجھتے ہیں لوگ عمومی ممنوعات و مکروہات اور محرمات کو تو گناہ سمجھتے ہیں لیکن قرآن کو سمجھ کر نہ پڑھنے کو گناہ نہیں سمجھا جاتا۔حالاں کہ یہی ہماری جہالت اور بربادی کی بنیادی وجہ ہے۔ اگر آپ کسی کورس کی گائیڈ بک کے ذریعہ رہنمائی نہ لیں تو پھر اس کورس کی تکمیل کیسے کریں گے؟ اس کے لوازمات کو کیسے سمجھیں گے ؟ ایسے ہی ہم نے بہ حیثیت مسلمان قرآن مجید کے ترجمہ کو نہ پڑھ کر اس کی ہدایات کو نہ جان کر کس طرح حقیقی طور پر مسلمان بنیں گے۔ مولانا نے اس موقع پر خصوصیت کے ساتھ نوجوانوں اور پروفیشنلز کو اس بات کی ترغیب دی کہ تم یہ آدھی ادھوری زندگی کو ترک کرو۔ تمہیں آئی ٹی میں خوب ترقی کرنا ہے جو وقت کا اہم ترین تقاضا ہے۔ تمہیں انفارمیشن اور ٹکنالوجی میں ایسے راستے تلاش کرنا ہے جس کے ذریعہ تم اپنے ملک کی اسلام کی اور انسانی برادری کی خدمت کرسکتے ہو۔ مولانا نے کہا کہ میں اس وقت طبیعت کے حوالے سے بہت نازک مرحلے سے گزر رہا ہوں‘ڈاکٹروں نے مجھے شدید خطرہ بتایا اس کے باوجود ہر مہینہ 20تا25دن میں بس سفر در سفر میں مصروف ہوں۔ میری یہ کوشش ہے کہ میں اپنے غافل نوجوان بچے اور بچیوں کو بیدار کروں اور انہیں اپنی ان ذمہ داریوں کا احساس دلاؤں۔مولانا نے کہا کہ اگر میری اس کوشش سے کوئی عمومی فائدہ ہو یا نہ ہو یہ میری نجات آخرت کا ذریعہ ہی بن جائے تو بڑی سعادت کی بات ہوگی۔ مولانا نے مختصر سے وقفہ میں جن اہم باتوں کا خاص طور پر ذکر کیا؛ ان میں سے چند باتیں افادہ عام کے لیے یہاں نقل کی جارہی ہیں۔مولانا نے کہا کہ معرکہ طوفان الاقصی کی وجہ سے اس وقت نظم عالم تبدیل ہو رہا ہے۔ تاریخ کا ورق پلیٹ رہا ہے۔پوری دنیا حیران و ششدر ہے کہ کس طرح حماس کے جاں بازوں نے ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا ہے۔ مولانا سجاد نعمانی نے کہا کہ سرزمین فلسطین دنیا کی تمام دجالی طاقتوں کا قبرستان بنے گی۔ فلسطینی صرف اپنے لیے نہیں پوری دنیا کے مظلوموں کے لیے لڑ رہے ہیں۔ دنیا میں جب بھی کوئی بڑی تبدیلی رونما ہوئی ہے؛ وہ فلسطین سے ہی شروع ہوئی ہے۔ اب ایک نیا ورلڈ آرڈر شروع ہونے والا ہے۔ اللہ کے فیصلے پہلے مسجد اقصٰی پر اترتے ہیں؛ پھر وہ دنیا میں بھر میں نافذ ہوتے ہیں۔ ہزار سال تک بھی یہودیوں کو کوئی ملک پناہ دینے کے لیے تیار نہیں تھا۔ ہٹلر نے 6 ملین یہودیوں کا قتل عام کیا لیکن فلسطینیوں نے انہیں انسانی بنیادوں پر فلسطین میں پناہ دی۔ آج یہی یہودی فلسطینیوں کے خلاف ظلم کررہے ہیں، جہاں 24ہزار سے زائد فلسطینی شہید کیے گئے اور ہزاروں شدید زخمی ہیں۔ اس سب کے باوجود فلسطینی جرات سے مقابلہ کررہے ہیں اور زبان پر حرف شکایت تک نہیں لارہے ہیں۔ فلسطینیوں کی اس جدوجہد کی وجہ سے دنیا کے کئی ممالک کے لوگ اسلام قبول کررہے ہیں۔ جس قوم کے نوجوان قومی مقصد کے تحت اپنی زندگی گزارتے ہیں؛ اس قوم کو دنیا کی کوئی طاقت ختم نہیں کرسکتی۔مولانا نے کہا کہ قرآن مجید کو ترجمہ کے ساتھ پڑھا جائے۔ قرآن علم، عقل، معرفت اور رہنمائی کی کتاب ہے۔ جس سے انسان کے اندر یقین و اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے۔مولانا نے کہا کہ حق کے غلبہ کا وقت قریب آتا ہے تو اللہ کی طرف سے چھٹائی کا زبردست عمل شروع ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ایمان والوں اور منافقین کو الگ الگ کر دیتے ہیں اور یہ عمل شروع ہوچکا ہے۔ ہر شخص اپنی اور اپنے اہل خاندان کی فکر کریں۔ اپنے ایمان اور یقین کی مضبوطی کے لیے اہل علم سے رابطہ کریں اور قرآن مجید کو ہر وقت سمجھنے کی کوشش کرتے رہیں۔