نکلس روڈ پر جھاڑوں کی کٹائی ایچ ایم ڈی اے اور جی ایچ ایم سی کی وضاحت

   

درختوں کی جڑوں کے ساتھ مختلف پارکس کو منتقلی ، پر فضا ماحول فراہم کرنے والے محکمہ پر اعتراض
حیدرآباد۔9۔نومبر۔(سیاست نیوز) شہر میں منعقد ہونے والی فارمولہ ۔ای ریس کے لئے نکلس روڈ پر موجود درختوں کو کاٹ دئیے جانے کے سلسلہ میں خبروں کی اشاعت اور ماحولیات کے تحفظ کے لئے جدوجہد کرنے والوں کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارمس پر کی جانے والی شدید تنقیدوں کے بعد محکمہ بلدی نظم و نسق ‘ حیدرآباد میٹروپولیٹین ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کے علاوہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے وضاحتوں کا سلسلہ شروع ہوگیا اور اب یہ دعویٰ کیا جا رہاہے کہ نکلس روڈ پر موجود درختوں کو کاٹا نہیں گیا ہے بلکہ ان درختوں کو حسین ساگر کے اطراف و اکناف موجود پارکس میں منتقل کیا گیا ہے۔ گذشتہ یوم نکلس روڈ پر موجود درختوں کو کاٹے جانے کی خبروں کے منظر عام پر آنے کے بعد حیدرآباد میٹرو پولیٹین اتھاریٹی نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ ان درختوں کو سنجیویاپارک کے علاوہ این ٹی آر گارڈن اور اندرا پارک میں دوبارہ لگایا گیا ہے یعنی ان درختوں کو جڑ سے نکال کرسائنٹیفک طریقہ سے دیگر پارکوں میں لگانے کے اقدامات کئے گئے ہیں۔ محکمہ بلدی نظم ونسق کی جانب سے اس سلسلہ میں کی گئی وضاحت میں کہا گیا ہے کہ ریاستی حکومت ریاست میں ہریتا ہرم پراجکٹ کے تحت درختوں کی تعداد میں اضافہ کے عہد کی پابند ہے اور حکومت کی جانب سے ان درختوں کی منتقلی کے سلسلہ میں ماہرین کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔محکمہ جنگلات کے عہدیداروں نے اس سلسلہ میں تفصیلات حاصل کرنے کے بعد اس بات کی تصدیق کی کہ نکلس روڈ پر 6تا11 فروری کے دوران منعقد ہونے والی فارمولہ ۔ای ریس جس میں الکٹرک ریسنگ کارس کی دوڑ ہوگی اس کے لئے حسین ساگر کے اطراف واکناف میں سڑک کو اس دوڑ کے قابل بنانے کے لئے ہٹائے گئے درخت پارکس کو منتقل کئے گئے ہیں۔ نکلس روڈ پر اس ریس کے لئے درختوں کو نکالے اور کاٹے جانے کے سلسلہ میں کئے جانے والے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے متعلقہ محکمہ جات کے عہدیداروں نے درختوں کو جن مقامات پر لگایا گیا ہے ان مقامات اور درختوں کی تصاویر بھی جاری کی ہیں ۔ ماحولیات کے تحفظ کے لئے جدوجہد کرنے والے جہدکاروں کا کہنا ہے کہ حکومت کے ان محکمہ جات کو درختوں کو کاٹنے سے قبل اس سلسلہ میں عوامی رائے حاصل کرنی چاہئے تھی کیونکہ عام شہریوں کو درخت کاٹنے کی اجازت نہیں دی جاتی اور ماحولیات کے تحفظ کی دہائی دی جاتی ہے لیکن سرکاری محکمہ جات کی جانب سے بڑے پیمانے پر کی گئی یہ کاروائی اب بھی ان کی نظر میں مشتبہ ہے۔م