نیٹ پیپر لیک معاملہ میں سی بی آئی کی بڑی کارروائی

   

ایک طالبہ بھی پولیس تحویل میں ،پٹنہ ایمس کے چار گرفتارطلبہ سے پوچھ گچھ

پٹنہ؍ نئی دہلی: ایک طرف سپریم کورٹ میں نیٹ امتحان کو لیکر سماعت جاری ہے تو دوسری طرف پیپر لیک معاملے میں سی بی آئی مسلسل کارروائی کر رہی ہے۔ آج ہی مرکزی تفتیشی ایجنسی نے گرلز ہاسٹل۔3 میں رہنے والی آر آئی ایم ایس کی ایم بی بی ایس کے پہلے سال کی طالبہ سربھی کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔ سی بی آئی کی ٹیم نے انہیں جمعرات کو پوچھ گچھ کیلئے بلایا تھا لیکن وہ نہیں گئیں، جس کے بعد اب انہیں حراست میں لے لیا گیا ہے۔ سی بی آئی کی ٹیم آر آئی ایم ایس کے ہاسٹل-3 پہنچی اور سربھی کو اپنی تحویل میں لے لیا۔ آر آئی ایم ایس کے ایک ڈاکٹر کے مطابق، جب سے پیپر لیک ہونے کا انکشاف ہوا ہے، سربھی خوفزدہ تھی۔ وہ اپنے دوستوں سے بھی زیادہ بات نہیں کرتی تھی۔ایک دن پہلے سی بی آئی نے پٹنہ کے ایمس ہاسپٹل سے چار ڈاکٹروں کو گرفتار کیا تھا۔تمام گرفتار طلباء کو جمعرات کو عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں سے انہیں سی بی آئی ریمانڈ پر سی بی آئی کے حوالے کر دیا گیا۔ سی بی آئی کو شبہ ہے کہ یہ چار طالب علم کا سولور گینگ (پیپر حل کرنے والا گروہ) کا حصہ ہو سکتے ہیں۔ چاروں طلبا کو حراست میں پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ ان میں سے تین طالب علم پٹنہ ایمس میں ایم بی بی ایس کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔دو دن پہلے سی بی آئی نے اس معاملے میں نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی کے ٹرنک سے پیپر چوری کرنے والے انجینئر کو پٹنہ سے گرفتار کیا تھا۔ اس کے ساتھ پولیس نے اس کے دوسرے ساتھی کو بھی پکڑ لیا تھا۔ دو گرفتار ملزمان کی شناخت پنکج کمار اور راجو سنگھ کے طور پر ہوئی ہے۔