مرکزی و ریاستی حکومتوں کی پالیسیوں کیخلاف احتجاج، مئی ڈے کے موقع پر ریالی و احتجاجی جلسہ
حیدرآباد ۔ یکم مئی ۔ (پریس نوٹ) مئی ڈے کے موقع پر آل انڈیا ٹریڈ یونین اے آئی ٹی یو سی آفس حمایت نگر تا شالیمار فنکشن ہال نارائن گوڑہ تک ایک بڑی ریالی نکالی گئی جو بعدازاں ایک جلسہ عام میں تبدیل ہوگئی جہاں پر جناب سید عزیز پاشاہ سابق رکن پارلیمنٹ نے بحیثیت مہمان خطاب کرتے ہوئے کہاکہ گزشتہ 136 سال سے کس طرح ورکرس اپنے حقوق کے لئے جدوجہد کررہے ہیں۔ انھوں نے مزید کہاکہ یہ جدوجہد آج بھی جاری و ساری ہے۔ انھوں نے کہاکہ نریندر مودی کی حکومت چار لیبر کوڈس کو تبدیل کرتے ہوئے متعارف کررہی ہے۔ جس سے 29 حمایتی قوانین کی تکمیل نہیں ہوگی۔ اس سلسلہ میں ملک کے صرف 12 ریاستوں میں اعلامیہ جاری کیا گیا ہے۔ جناب سید عزیز پاشاہ نے اپنے خطاب میں مزید کہاکہ اگر ان کو مان لیا جاتا ہے تو 50 کروڑ ورکرس میں سے 84 فیصد انڈسٹریل ورکرس کو اس اسکیم کے تحت نقصان کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے اور بے روزگاری کی شرح فیصد میں بے تحاشہ اضافہ ہوگا۔ ورکرس نے اپنے حقوق کے لئے 28 اور 29 مارچ 22کو نیشنل ٹریڈ یونینوں بشمول اے آئی ٹی یو سی، آئی این ٹی یو سی، سی آئی ٹی یو، ایچ ایم ایس اور دیگر تنظیموں کے بیانر تلے قومی سطح پر حکومت کے مخالف ورکرس پالیسیوں کے خلاف احتجاج کیا تھا۔ بی جے پی حکومت میں فورڈ جنرل موٹرس، ہونڈا کارس اور دیگر تین آٹو موبائیل صنعتیں بند ہوگئی ہیں۔ ہندوستان کے شہریوں کی حالت بہت سنگین صورتحال اختیار کرگئی ہے۔ انھوں نے مزید کہاکہ اس طرح کی صورتحال حکومت کے لئے شرم کی بات ہے۔ انھوں نے تمام یونینوں سے خواہش کی کہ اپنے حقوق کے لئے جدوجہد کو جاری رکھیں۔ اس جلسہ سے مسٹر وی ایس بوس نے خطاب کرتے ہوئے نریندر مودی حکومت کی غلط پالیسیوں پر شدید تنقید کی۔ جبکہ چیف منسٹر تلنگانہ کے چندرشیکھر راؤ سے پرزور مطالبہ کیاکہ وہ ڈھائی لاکھ کنٹراکٹ ملازمین کی خدمات کو بغیر کسی تاخیر کے باقاعدہ بنائیں۔ پی پدما سکریٹری آل انڈیا کسان سبھا، پریم پوانی سکریٹری اسٹیٹ اے آئی ٹی یو سی، ای ٹی نرسمہا سٹی سی پی آئی ایم، نرسمہا پریسیڈنٹ سٹی اے آئی ٹی یو سی نے بھی مخاطب کیا جبکہ اجلاس کی صدارت مسٹر کے یادگیری نے کی۔