وزیر اقلیتی بہبود کیلئے ’ حج ہاوز ‘ میں ہی دفتر کے قیام کی تیاری

   

محمد اظہر الدین کی عوام کے درمیان رہنے کو ترجیح یا پھر سیکریٹریٹ میں کوئی جگہ نہیں ؟

حیدرآباد 30 اگسٹ(سیاست نیوز) اقلیتوں کے مسائل کے حل کیلئے وزیر اقلیتی بہبود جناب محمد اظہر الدین نے عوام کے درمیان موجود رہنے کا فیصلہ کیا ہے یا ریاستی سیکریٹریٹ میں وزیر اقلیتی بہبود کیلئے کوئی جگہ نہیں رہی !ذرائع کے مطابق وزیر اقلیتی بہبود جناب محمد اظہر الدین کے شخصی مددگار نے چیف اکزیکٹیو آفیسروقف بورڈ کو مکتوب روانہ کرکے وزیر اقلیتی بہبود جناب محمد اظہر الدین کیلئے ’حج ہاؤز‘ میں جگہ کی تخصیص کی خواہش کی او رکہا کہ وزیر اقلیتی بہبود کے دفتر‘ میٹنگ روم‘ اجلاس و کانفرنس روم کیلئے جگہ فراہمی کے اقدامات کئے جائیں کیونکہ جناب محمد اظہر الدین ’حج ہاؤز‘ کی عمارت میں بھی ایک دفتر کے ذریعہ عوام سے راست ملاقات کرکے مسائل کے حل کے اقدامات پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں۔ بتایا گیا کہ جناب محمد اظہر الدین کو مشیروں کے مشورہ کے مطابق محکمہ اقلیتی بہبود کے دفاتر اور ان کی کارکردگی کو بہتر بنانے ان اداروں کو پہنچنے والوں اور ان کی شکایات پر نظر رکھنا ناگزیر ہے اسی لئے ’حج ہاؤز‘ میں بھی وزیر اقلیتی بہبود کے دفتر کے اقدامات کئے جانے چاہئے ۔ وزیر نے اس مشورہ کے بعد ہدایت دی کہ ان کی ’لندن‘ سے واپسی سے قبل ’حج ہاؤز‘ میں ان کے دفتر کے اقدامات کو مکمل کرلیا جائے ۔ بتایا گیا کہ اس سلسلہ میں مکتوب ملنے کے بعد چیف اکزیکٹیو آفیسر جناب محمد اسداللہ نے ماتحت حکام اور وقف بورڈ کے عملہ سے حج ہاؤز کی عمارت میں ایسی جگہ یا وہ منزل جو وزیر اقلیتی بہبود کے دفتر کیلئے موزو ہواس کی نشاندہی کا آغاز کردیا ۔ کہا جا رہاہے کہ انہیں وقف بورڈ کے دفتر کے کسی حصہ یا تلنگانہ اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کے کسی گوشہ میں جگہ کی فراہمی پر غور کیا جا رہاہے ۔ علاوہ ازیں سی ای او وقف بورڈ نے حج ہاؤز کی ساتویں منزل پر بورڈ کے انسپکٹر آڈیٹرسے یا چوتھی منزل پر موجود ایک گوشہ میں جہاں میریج کونسلنگ ہوا کرتی تھی اس جگہ کی بھی نشاندہی کی اور جناب محمد اظہر الدین کے غیر سرکاری عملہ کو واقف کروایا جاچکا ہے لیکن وزیر موصوف کا غیر سرکاری عملہ نے ان مقامات کو پسند نہیں کیا اور کہا کہ ایک مکمل فلور جہاں کسی کی رسائی نہ ہو اور معیاری سہولتیں ہوں وہ وزیر اقلیتی بہبود کیلئے مختص کرکے ان کی تزئین نو و آہک پاشی کروائیں تاکہ وزیر اقلیتی بہبود کو معیاری سہولتوں کی فراہمی اور ان کی سرگرمیوں کو عوام کی نظروں سے اوجھل رکھا جاسکے۔3