وزیراعظم مودی انتخابات جیت گئے لیکن معیشت ٹھپ

,

   

Ferty9 Clinic

پالیسیوں کو بہتر بنانے کے بجائے پارٹی کو کامیابی دلانے کی فکر ، نکائی آسیان کاجائزہ

نئی دہلی ۔ 11 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) جاپان کے نکائی آسیان ریویو نے اپنی تازہ اسٹوری میں کہا ہیکہ وزیراعظم مودی انتخابات جیت سکتے ہیں لیکن ان کی پالیسیاں ہندوستانی معیشت کو برباد کردی ہیں۔ وہ اپنی پارٹی کو کامیاب بنانے پر ہی توجہ دے رہے ہیں۔ 2014ء اور 2019ء میں پارٹی کو بھاری اکثریت سے کامیاب بنانے کی کوشش کی گئی لیکن ہندوستان کو معاشی بحران سے نکالنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ نکائی آسیان ریویو نے مزید بتایا کہ سیاسی اور معاشی بحران دو سخت دھارے ہیں لیکن نریندر مودی جب وزیراعظم بن گئے تو انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ ملک کو اپنی آبائی ریاست گجرات کی طرح ترقی دیں گے۔ جہاں انہوں نے معاشی ترقی کو یقینی بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔ وزیراعظم کی پہلی میعاد کے دوران وہ ہندوستانی معیشت کو بہتر بنانے میں ناکام رہے۔ سیلس ٹیکس نافذ کرکے تاجروں کو پریشان کردیا۔ نوٹ بینک منسوخ کرکے عوام کو پریشان کیا۔ ہندوستان میں کرنسی کا بحران پیدا ہوگیا اس کے باوجود 2019ء میں وہ دوبارہ بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئے۔ گجرات میں وہ پہلی مرتبہ اقتدار پر آنے کے بعد تشدد بھڑک اٹھا۔ 2002ء میں گجرات کے مسلم کش فسادات رونما ہوئے جبکہ مودی اپنی ہی ریاست کی صورتحال سے راہ فرار اختیار کرنے لگے۔ عوام کا خط اعتماد حاصل کرنے کے بعد مودی کی حکومت نے ہندوتوا پر زیادہ کام کرنا شروع کیا۔ معیشت کو نظرانداز کردیا۔ اپنے ہندو قوم پرستانہ ایجنڈہ آگے بڑھایا۔ آر ایس ایس کی سرپرستی میں ہندو انتہاء پسندو گروپوں کو کھلی چھوٹ دی گئی۔ جموں کشمیر کے خودمختاری موقف کو ہٹا دیا گیا۔ ملک کے شہریت قانون میں کمی لائی گئی جس کی وجہ سے ہندوستانی مسلمانوں کا مستقبل خطرہ میں پڑ گیا۔ پڑوسی ملکوں سے آنے والے مسلم تارکین کو شہریت دینے سے انکار کیا گیا۔ سی اے اے لانے کا مقصد ہندوستانی مسلمانوں کو زبردستی ہندو بنانے اور انہیں ہندو شناخت اختیار کرنے کیلئے مجبورکیاجائے گا۔ تقریباً تمام سرکاری مشنری کا استعمال کرتے ہوئے مسلمانوں کو خوفزدہ کیا جانے لگا۔ ان تمام کارروائیوں کے درمیان ہندوستانی معیشت ٹھپ ہوکر رہ گئی۔ معاشی بحران سے ملک کو بچانے کیلئے مودی حکومت کے پاس کوئی پالیسی نہیں ہے۔