اسمبلی حلقہ کاماریڈی کو ملک کے مثالی حلقہ کے طور پر ترقی دی جائے گی، جلسہ عام سے خطاب
حیدرآباد 9 نومبر (سیاست نیوز) چیف منسٹر کے سی آر نے وزیراعظم نریندر مودی پر آگ اُگلتے ہوئے کہاکہ تلنگانہ کے ساتھ مرکزی حکومت کا امتیازی سلوک جاری ہے۔ زرعی موٹرس کو میٹر نہ لگانے پر 25 ہزار کروڑ روپئے کی کٹوتی کردی گئی ہے۔ 50 لاکھ روپئے کے ساتھ رنگے ہاتھوں پکڑے جانے والے ریونت ریڈی مجھ سے مقابلہ کررہے ہیں ۔ ان کی جماعت بی آر ایس تلنگانہ کے مفادات کا تحفظ کرنے بنی ہے، انھیں کامیاب بنایا گیا تو وہ اسمبلی حلقہ کاماریڈی کو مثالی حلقہ میں تبدیل کردیں گے۔ آج گجویل اور کاماریڈی میں پرچہ نامزدگی داخل کرنے کے بعد کاماریڈی میں جلسہ سے خطاب میں چیف منسٹر نے وزیراعظم کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہاکہ جلیل القدر عہدہ پر فائز وزیراعظم مودی کو زیب نہیں دیتا کہ وہ غیر بی جے پی ریاستوں کے ساتھ امتیازی سلوک کریں۔ ٹیم انڈیا کی طرح کام کرنے کا اعلان کرنے والے وزیراعظم اپنی ٹیم میں صرف بی جے پی اقتدار والی ریاستوں کو اہمیت دے رہے ہیں۔ تقسیم آندھراپردیش بل کے ایک وعدے کو بھی پورا نہیں کیا گیا۔ ملک بھر میں 157 میڈیکل کالجس قائم ہوئے ، تلنگانہ کو ایک میڈیکل کالج بھی نہیں دیا گیا۔ مرکز نے زرعی شعبہ کو مفت برقی سربراہی کی مخالفت کی ۔ زرعی سرگرمیوں کیلئے استعمال ہونے والے موٹرس کو میٹرس لگانے کا دباؤ ڈالا گیا، نہ لگانے پر انتقامی کارروائی کے طور پر 25 ہزار کروڑ روپئے کی کٹوتی کی گئی۔ ملک کی تمام ریاستوں میں ہر ضلع کو ایک نوودیا اسکول دیا گیا۔ تلنگانہ میں اضلاع کی تنظیم جدید کرکے 33 اضلاع بنادیئے گئے۔ تمام اضلاع کو نوودیا اسکولس منظور کرنے کا وزیراعظم مودی سے مطالبہ کرکے 100 مکتوبات روانہ کئے گئے مگر کوئی ردعمل نہیں ملا ۔ ایسی بی جے پی کو ووٹ نہ دینے کی عوام سے اپیل کی۔ چیف منسٹر کے سی آر نے کہاکہ ان کا کاماریڈی سے پیدائش تعلق ہے، ان کی والدہ اسی اسمبلی حلقہ کے ایک دیہات میں پیدا ہوئیں۔ وہ بچپن سے آتے رہے ہیں۔ گمپا گوردھن ریڈی کی خواہش پر وہ اس بار گجویل کے علاوہ اسمبلی حلقہ کاماریڈی سے بھی مقابلہ کررہے ہیں۔ ان کے اس حلقہ سے کامیابی کے بعد حلقہ کی صورتحال تبدیل ہوجائے گی۔ تلنگانہ تحریک میں ضلع کاماریڈی کے عوام نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے۔ چیف منسٹر نے کہاکہ کانگریس 50 سال تک حکمرانی کرچکی ہے مگر کانگریس نے ریاست کو ترقی دینے اور عوام کی فلاح و بہبود کیلئے کوئی کام نہیں کیا ہے۔ آزادی کے 75 سال مکمل ہوجانے کے بعد بھی جمہوری اقدار کو وہ مقام حاصل نہیں ہوا جس کی ڈاکٹر امبیڈکر نے اُمید کی تھی۔ انتخابات آتے ہی عوام اندھا دھند ووٹ نہ دیں، سیاسی جماعتوں کی تاریخ اور امیدواروں کا گہرائی سے جائزہ لینے کے بعد 30 نومبر کو ووٹ دیں۔ وہ چاہتے ہیں انتخابات میں عوام کامیاب ہوں تب ہی ممکن ہوسکتا ہے جب بی آر ایس کامیاب ہو۔ کیونکہ تلنگانہ کے مفادات کا تحفظ کرنے بی آر ایس کا وجود عمل میں لایا گیا ہے۔ علیحدہ تلنگانہ کی تشکیل کے بعد جو بھی ترقی ہوئی اس کی نظیر ملک بھر میں کہیں بھی نہیں ملتی۔ کانگریس کے غلط فیصلوں سے تلنگانہ کو جو نقصان ہوا تھا اس کو درست کرنے گزشتہ 10 سال سے خصوصی منصوبہ بندی تیار کرکے کام کیا جارہا ہے جس کے نتیجہ میں تمام شعبے ترقی یافتہ ہوگئے ہیں۔ مرکز سے اس کی ستائش کرکے ایوارڈس دیئے جارہے ہیں۔ غریب عوام کی ترقی اور بہبود کیلئے وسیع تر اقدامات کئے گئے ۔ بی آر ایس کو تیسری مرتبہ کامیاب بنایا گیا تو ترقی کی رفتار کو مزید تیز کردیا جائیگا۔ ساتھ ہی مزید نئی فلاحی اسکیمات کو متعارف کراتے ہوئے عوام کو فائدہ پہنچایا جارہا ہے۔ عوام فیصلہ کرلیں کام کرنے والے چاہئے یا بے کار لوگ چاہئے۔ ن