ممبئی : بمبئی ہائی کورٹ نے جمعہ کو مہاراشٹرا حکومت کی کھنچائی کی اور کولہاپور کے وشال گڑھ قلعے کے آس پاس کی تمام مسماری سرگرمیوں پر مکمل پابندی عائد کر دی، جو گزشتہ ہفتے دو برادریوں کے درمیان تنازعہ اور تشدد کی وجہ سے لرز اٹھا تھا۔جسٹس بی پی کولاباوالا اور جسٹس ایف پی پونی والا پر مشتمل ایک ڈویژن بنچ نے نشاندہی کی کہ ریاستی حکومت مانسون کے موسم میں ڈھانچے کو گرانے کے اپنے ہی نوٹیفکیشن کی خلاف ورزی کر رہی ہے ۔ججوں نے سوال کیا کہ آپ برسات کے موسم میں ڈھانچے کو کیسے گرا سکتے ہیں؟اور یہ واضح کیا کہ کوئی بھی ڈھانچہ ، چاہے وہ تجارتی ہو یا گھر ،کو اگلے احکامات تک نہیں گرایا جائے۔ایک موقع پر، جسٹس کولابوالا نے یہاں تک خبردار کیا کہ اگر کوئی خلاف ورزی ہوتی ہے ، تو عدالت سرکاری افسران پر بھاری پڑ جائے گی اور متعلقہ افسران کو جیل میں ڈالنے سے نہیں ہچکچائے گی۔ وشال گڑھ قلعہ کے آس پاس اور یہاں تک کہ قلعہ سے 3 کلومیٹر سے زیادہ دور واقع غازہ پور گاؤں میں تقریباً 60-70 ڈھانچوں کو گرا دیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا ہوئی تھی۔اس خطے میں 14 جولائی کو اقلیتی اور اکثریتی برادریوں کے درمیان کشیدگی بھڑک اٹھی اور اگلے ہی دن ریاستی محکمہ تعمیرات عامہ حکام نے مسمار کرنے کی مہم شروع کی۔