تلنگانہ بھون میں محمد محمود علی اور شیخ عبداللہ سہیل و دیگر کی شرکت
حیدرآباد ۔ 9 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز ) : بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر نے کہا کہ اسمبلی انتخابات میں عوام سے کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے کے لیے سرکاری خزانہ خالی ہے لیکن موسیٰ ندی کو خوبصورت بنانے کے لیے ایک لاکھ 50 ہزار روپئے خرچ کرنے کا اعلان کرنا مضحکہ خیز ہے ۔ بی آر ایس کے قائد شیخ عبداللہ سہیل کی قیادت میں اسمبلی حلقہ شیر لنگم پلی کے کانگریس قائد محمد علاء الدین پٹیل نے اپنے سینکڑوں کانگریس کارکنوں کے ساتھ تلنگانہ بھون پہونچکر بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر سے ملاقات کرتے ہوئے بی آر ایس پارٹی میں شمولیت اختیار کی ۔ اس موقع پر سابق وزیر داخلہ محمد محمود علی کے علاوہ دوسرے قائدین موجود تھے ۔ کے ٹی آر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسمبلی انتخابات کے دوران کانگریس پارٹی نے ہتھیلی میں جنت دکھاتے ہوئے سماج کے تمام طبقات کو دھوکہ دیا ۔ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی ان وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام ہوگئے ہیں ۔ موسیٰ ندی کی خوبصورتی کے نام پر انہدامی کارروائیاں کرتے ہوئے ’ موسی کے نام پر مصیبت لا دئیے ‘ دوسری طرف حیڈرا کی کارروائیوں سے عوام میں دہشت پیدا ہوگئی ۔ تلنگانہ کو عوامی حکمرانی کے نام پر بلڈوزر حکمرانی میں تبدیل کردیا گیا ہے ۔ راہول گاندھی کے ذریعہ سال میں 2 لاکھ ملازمتیں فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا ۔ خواتین کو ماہانہ 2500 روپئے معاوضہ دینے کا وعدہ کیا گیا ۔ ریاست میں 60 کروڑ خواتین گذشتہ 10 ماہ سے 2500 روپئے کا انتظار کررہی ہیں ۔ سابق وزیر داخلہ محمد محمود علی نے کے سی آر کے 10 سالہ دور حکومت کو اقلیتوں کے لیے سنہرا دور قرار دیا ۔ اقلیتوں کی تعلیمی پسماندگی کو دور کرنے کے لیے 200 سے زائد اقلیتی ریسیڈنشیل اسکولس قائم کئے گئے ۔ بی آر ایس کے قائد شیخ عبداللہ سہیل نے کہا کہ کانگریس کا 10 ماہی دور اقتدار مایوس کن ، میناریٹی ڈیکلریشن کو نظر انداز کردیا گیا ہے ۔ لا اینڈ آرڈر کی ابتر صورتحال ہے ۔ 10 ماہی دور حکومت میں 20 فرقہ وارانہ واقعات پیش آئے ہیں کانگریس کارکن ہی حکومت کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہے ۔۔ 2