محمدمبشرالدین خرم
حیدرآباد۔5۔ستمبر۔تلنگانہ میں موجود انتہائی قیمتی اوقافی جائیدادوں کی تباہی کے لئے حکومت نے تلنگانہ وقف بورڈ کی تحلیل اور اسپیشل آفیسر کے تقرر کے ذریعہ کاروائیوں کو انجام دینے کی منصوبہ بندی شروع کردی ہے! قیمتی اوقافی اراضیات کی تباہی میں حائل رکاوٹوں کو دور کرتے ہوئے ’’بورڈ کا اجلاس منعقد کرنے کے بجائے ’’بورڈ کو تحلیل کرتے ہوئے ’’اسپیشل آفیسر ‘‘ کے تقرر کا جائزہ لیا جانے لگا ہے۔ ریاستی وزیر اقلیتی بہبود جناب محمد اظہر الدین نے آج اپنے محکمہ کا جائزہ اجلاس منعقد کرتے ہوئے اداروں کی کارکردگی سے متعلق آگہی حاصل کی ۔ جائزہ اجلاس کے دوران ریاستی وزیر نے محکمہ کے تحت خدمات انجام دینے والے اداروں سے متعلق خبریں منظر عام پر آنے پرشدید برہمی کا اظہار کیا ۔ جامعہ نظامیہ کی 510.35ایکڑ موقوفہ اراضی میں10 ایکڑ سے زائد اراضی کے ہراج‘ درگاہ حضرت سید مخدوم شاہ بیابانی ؒآلور شریف کی 1264 ایکڑ اراضی کو معمولی قیمت پر قانون حق حصول اراضی کے تحت حاصل کرنے کے اقدامات کے علاوہ ملکا جگری کی موقوفہ جائیدادوں کے موقف کو تبدیل کرنے اور ان کے متعلق اطلاعات ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے سے بوکھلاہٹ کا شکار وزیر اقلیتی بہبود جناب محمد اظہر الدین نے تمام ادارہ جات سے تعلق رکھنے والے عہدیداروں کو انتباہ دیا کہ اگر اب دفتری اطلاعات ذرائع ابلاغ تک پہنچتی ہیں تو وہ عہدیداروں کے خلاف کاروائی سے گریز نہیں کریں گے۔اجلاس میں مشیر برائے اقلیتی امور جناب محمد علی شبیر ‘ جناب فہیم قریشی نائب صدر ’ٹمریز‘ مولانا غلام سید شاہ افضل بیابانی صدرنشین حج کمیٹی ‘ جناب عبیداللہ کوتوال صدرنشین تلنگانہ اقلیتی مالیاتی کارپوریشن ‘ جناب طاہر بن حمدان صدرنشین تلنگانہ اردو اکیڈیمی‘ کے علاوہ پرنسپل سیکریٹری محکمہ اقلیتی بہبود جناب احمد ندیم آئی اے ایس‘ سیکریٹری محکمہ اقلیتی بہبود جناب بی شفیع اللہ آئی ایف ایس ‘ چیف اکزیکٹیو آفیسر تلنگانہ وقف بورڈ‘ ڈائریکٹر سیکریٹری اردو اکیڈیمی و اکزیکٹیو آفیسر حج کمیٹی جناب محمد اسداللہ ‘ پروفیسر ایس اے شکور دائرۃ المعارف ‘ محمد عبدالسمیع ‘ محترمہ خیر النساء ‘ محترمہ سبیتا کے علاوہ دیگر عہدیدار موجود تھے ۔جناب محمد اظہرالدین نے اپنے محکمہ کے اس جائزہ اجلاس کے دوران ‘جامعہ نظامیہ ‘ کی اراضی کے معاملہ میں وقف بورڈ کی خاموشی پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا ۔ جناب محمد فہیم قریشی نے اجلاس کے دوران کہا کہ وقف بورڈ کو ’جامعہ نظامیہ ‘ کی اراضی کے سلسلہ میں اپنی وضاحت پیش کرنی چاہئے اور بورڈ کی خاموشی کے نتیجہ میں مسئلہ سنگین نوعیت اختیار کرچکا ہے۔ انہو ںنے کہا کہ وقف بورڈ سے متعلق اطلاعات و خبروں کا ذرائع ابلاغ تک پہنچنا اور اخبارات میں ان کی اشاعت حکومت کے لئے بدنامی اور تشویش کا باعث بن رہی ہے۔ وقف بورڈ کے اجلاس سے متعلقہ اڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل اور ایڈوکیٹ جنرل کی جانب سے دی جانے والی رائے کے متعلق سیکریٹری محکمہ اقلیتی بہبود جناب بی شفیع اللہ آئی ایف ایس نے اجلاس کو واقف کرواتے ہوئے متبادل اقدامات کی تفصیلات پیش کی ۔اجلاس کے دوران ’ٹمریز‘ کے 30 جونیئر کالجس کو اپ گریڈ کرتے ہوئے انہیں ڈگری کالج بنائے جانے کے معاملہ پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا لیکن اس وقت تک جناب فہیم قریشی نائب صدر ’ٹمریز‘ اجلاس سے روانہ ہوچکے تھے ۔وقف بورڈ کے امور پر تبادلہ خیال کے دوران مشیر حکومت محمد علی شبیر ‘ محمد فہیم قریشی نے بھی اپنی تجاویز پیش کی۔مولانا غلام سید خسرو بیابانی نے اجلاس کے دوران ’’قاضی ایکٹ‘‘ کی تیاری کے سلسلہ میں اپنی تجاویز پیش کی اور کہا کہ تلنگانہ میں قاضی ایکٹ کی تیاری کے سلسلہ میں اقدامات ناگزیر ہیں تاکہ قاضیوں کے درمیان پیدا ہونے والے اختلافات کو دور کیا جاسکے۔ جناب احمد ندیم نے ’قاضی ایکٹ‘ کے متعلق ہونے والے تبادلہ خیال میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ وہ اس مسئلہ کا جائزہ لے رہے ہیں کیونکہ موجودہ ’ایکٹ‘ میں محض 4اصول بنائے گئے ہیں جن کی وضاحت و تفصیل تیار کی جانی چاہئے ۔ جناب محمد اظہر الدین نے ’اردواکیڈیمی‘ کی اراضی کی نجی کمپنی کو حوالگی کے معاملہ میں اپنی وضاحت پیش کرتے ہوئے صدرنشین اردو اکیڈیمی جناب طاہر بن حمدان سے استفسار کیا کہ اردواکیڈیمی کی اراضی کی حوالگی سے قبل کیا انہوں نے فون پر بات چیت نہیں کی تھی!جس پر صدرنشین اردو اکیڈیمی نے حامی بھرتے ہوئے اعتراف کیا کہ اس معاملہ سے وہ واقف تھے۔اسمبلی کے اجلاس سے قبل منعقدہ اجلاس میں ریاستی وزیر نے محکمہ میں ادارہ جاتی سطح پر جاری اسکیمات اور بجٹ کی تفصیلات حاصل کی جس پر تمام ادارہ جات نے بجٹ کی عدم اجرائی کی شکایت کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ کی اجرائی کے معاملہ میں انتہائی سست رفتاری کے نتیجہ میں اسکیمات پر عمل آوری پر اقدامات کرنے میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔کوکاپیٹ میں اسلامک کلچرل سنٹر کی تعمیر کے لئے مختص کردہ 10ایکڑ اراضی کی حصار بندی اور تعمیرات کے علاوہ مامڑپلی میں موجود موقوفہ اراضی پر ’’حج رباط‘‘ کی تعمیر اور حج ہاؤز سے متصل زیر تعمیر’’گارڈن ویووقف مال‘‘ کا مسئلہ بھی زیر بحث رہا لیکن عہدیداروں نے ان تمام کاموں کے لئے درکار بجٹ کی تفصیلات پیش کی۔H