وقف بل ‘ مسلمانوں کیلئے نوشتہ دیوار

   

پکڑنے والے ہیں سب خیمے آگ اور بے ہوش
پڑے ہیں قافلہ سالار مشعلوں کے قریب
اور بالآخر وہی ہوا جس کے اندیشے ظاہر کئے جا رہے تھے ۔ تلگودیشم پارٹی کے صدر چندرا بابونائیڈو اور جے ڈی یو کے صدر نتیش کمار نے اپنی وزارت اعلی کے مفادات کو پیش نظر رکھتے ہوئے مسلمانوں کے ساتھ دھوکہ کردیا اور لوک سبھا میں وقف ترمیمی بل کو معمولی ووٹوں کی اکثریت سے کامیاب کردیا گیا ۔ وقف بل کی تائید میں 288 ووٹ ڈالے گئے جبکہ اس کے خلاف 232 ووٹ ڈالے گئے ۔ انڈیا اتحاد نے یہ ثابت کردیا کہ وہ مسلمانوں اوراقلیتوں کے مفادات کا تحفظ کرنے کیلئے ڈٹے ہوئے ہیں۔ ان کا ایک بھی ووٹ ضائع نہیں ہوا اور نہ ہی بل کی تائید میں گیا ۔ اگر جے ڈی یواور تلگودیشم کی جانب سے اس بل کی تائید نہ کی جاتی تو پھر مسلمانوں کیلئے راحت ہوتی اور بل کو منظور نہیں کروایا جاسکتا تھا ۔ بی جے پی کیلئے وقف بل کی کامیابی در اصل مودی حکومت کی بقاء کا مسئلہ تھا ۔ اگر وقف بل کی تلگودیشم اور جے ڈی یو مخالفت کرتے اور یہ بل پاس نہیں ہو پاتا تو ایوان میں مودی حکومت کی اکثریت پر بھی سوال پیدا ہوتے اور عین ممکن تھا کہ مودی حکومت اقتدار سے محروم ہوجاتی ۔ ایک ایسا موقع تھا جو سیاسی جماعتوں کے ہاتھ آیا تھا اور ایسا لگتا ہے کہ تلگودیشم اور جے ڈی یو نے اس موقع سے فائدہ اٹھایا اور مودی حکومت کے ساتھ سودے بازی کرلی ۔ مسلمانوں کیلئے وقف بل کی منظوری ایک نوشتہ دیوار سے کم نہیں ہے ۔ انہیں یہ نوشتہ دیوار پڑھ لینا چاہئے کہ اس ملک میں ان کا حاشیہ تنگ کرنے میں کوئی بھی پیچھے رہنے کو تیار نہیںہے ۔ سکیولر ازم کا ڈھونگ رچانے والی جماعتیں بھی جب اپنے فائدہ کی بات آتی ہے تو مسلمانوں کو یا ان کے مفادات کو قربان کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتیں۔ جس طرح سے مودی حکومت نے مسلمانوں کو تختہ مشق بنایا ہوا ہے اسی طرح سے تلگودیشم اور جے ڈی یو نے بھی اپنے ہی مفادات کا تحفظ کرنا ضروری سمجھا اور مسلمانوں کے مفادات کو قربان کردیا ۔ اب مسلمانوں کے خلاف قانون سازی کرنے کیلئے مودی حکومت کے حوصلے مزید بلند ہوگئے ہیں اور یہ اندیشے پیدا ہونے لگے ہیں کہ مودی حکومت مزید سخت اور سنگین فیصلے بھی کرسکتی ہے ۔
اب تک ہندوستان میں مسلمانوں کے خلاف بھگوا تنظیموں اور سنگھ پریوار کے قائدین کی جانب سے زہر گھولا جاتا تھا ۔ کھل کر مسلمانوں کے مفادات کو نقصان پہونچانے اور ان کے خلاف قانون سازی کرنے کی بجائے بالواسطہ اقدامات کئے جاتے رہے تھے ۔ تاہم اب خود مرکزی حکومت نے پارلیمنٹ میں قانون منظور کردیا ہے اور مسلمانوں سے ہمدردی کا جھوٹا دکھاوا کرنے والے سکیولر سیاسی قائدین اس معاملے میں برابر کے شریک اور ذمہ دار ہیں بلکہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان کا رول زیادہ خطرناک رہا ہے ۔ مسلمانوں کی صفوں میں بھی کچھ دلال موجود ہیں جو بل کی تائید و حمایت کر رہے ہیں۔ اپنے ادنی سے مفادات حاصل کرنے اور اپنے آقاوں کو خوش کرنے کیلئے وہ مسلمانوں کے اجتماعی مفادات اور لاکھوں ایکڑ اوقافی اراضیات کو قربان کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کر رہے ہیں۔ انہیں اس بل کی منظوری سے اپنے آقاوں سے انعامات و اکرامات کی امیدیں وابستہ ہوگئی ہیں۔ مسلمانوں کو یہ صورتحال سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ حالانکہ مسلمانوں کو اپنے مفادات کا تحفظ کرنے کیلئے بہت پہلے جاگ جانا چاہئے تھا اور جدوجہد کا راستہ اختیار کرنا چاہئے تھا ۔ اپنے وجود کا احساس دلانا چاہئے تھا لیکن مسلمانوں کو سیاسی قائدین اور دلالوں نے افیون کی گولیاں دے دے کر سلایا ہے ۔ کم از کم اب مسلمانوں کو اپنے حقوق کا تحفظ کرنے خود کمربستہ ہونے کی ضرورت ہے ۔ دستور اور قانون کے دائرہ میں رہتے ہوئے حقوق کیلئے جدوجہد کی جانی چاہئے ۔
مسلمانوں کے مفادات کا تحفظ کرنے سڑکوں اور چوراہوں پر احتجاج کیا جاسکتا ہے ۔ کچھ گوشے ایسے ہیں جو ان فیصلوں کو ایوان میںہونے والے فیصلے قرار دیتے ہوئے امکانی احتجاجی راستہ کو سبوتاج کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایوان میں ہوئے فیصلے کو کسان برادری نے سڑکوں پر احتجاج کرتے ہوئے اور سینکڑوں جانوں کی قربانی دیتے ہوئے واپس لینے پر مجبور کیا تھا ۔ فیصلے عملی میدان ہی میں ہوسکتے ہیں اور مسلمانوں کو صورتحال کو حقیقی معنوں میں سمجھنے اور اپنے حقوق کا دستور اور قانون کے دائرہ میں رہتے ہوئے تحفظ کرنے کیلئے تیار ہوجانا چاہئے ۔ مفاد پرستوں اور دلالوں سے ہوشیار رہنا چاہئے ۔