صدر نشین بورڈ محمد مسیح اللہ خان سے عالمی باکسنگ چمپئن نکہت زرین کی ملاقات
حیدرآباد۔18 ۔اگسٹ(سیاست نیوز) عالمی باکسنگ چمپیئن نکہت زرین نے تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ کے دفتر واقع حج ہاؤز پہنچ کر صدرنشین وقف بورڈ جناب محمد مسیح اللہ خان سے ملاقات کی ۔ کامن ویلتھ گیمس میں سونے کا تمغہ جیتنے کے بعد ہندستان واپسی پر نکہت زرین نے دہلی میں وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کرتے ہوئے انہیں باکسنگ گلووز حوالہ کئے تھے اور اپنی کامیابی کو قوم کے نام معنون کرنے کا اعلان کیا تھا۔ جاریہ سال نکہت زرین کی کامن ویلتھ گیمس میں کامیابی دوسری بڑی کامیابی ہے کیونکہ جاریہ سال کے اوائل میں تلنگانہ سے تعلق رکھنے والی نکہت زرین نے ویمنس ورلڈ چیمپیئن شپ میں حصہ لیتے ہوئے عالمی چیمپیئن کا اعزاز حاصل کیا تھا اور جاریہ ماہ کے اوائل میں برمنگھم میں منعقدہ کامن ویلتھ گیمس میں سونے کا تمغہ حاصل کرتے ہوئے ریکارڈ قائم کیا ہے۔ نکہت زرین کو صدرنشین وقف بورڈ جناب محمد مسیح اللہ خان نے عالمی ریکارڈ اور کامن ویلتھ گیمس میں سونے کا تمغہ حاصل کرنے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے مستقبل کے لئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور کہا کہ نکہت زرین کی کامیابی ہندستانی لڑکیوں بالخصوص تلنگانہ کے لڑکیوں کے لئے مثال ہے ۔ صدرنشین وقف بورڈ نے نکہت زرین کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے مستقبل کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ ریاست کے خواتین اور لڑکیوں کی صحت اور ترقی کے لئے انہیں تجاویز دینے کے لئے اس سلسلہ میں کام کو اپنا شعار بنائیں۔ نکہت زرین ملاقات کے دوران جناب محمد مسیح اللہ خان اور حکومت تلنگانہ سے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے انکی حوصلہ افزائی اور سرپرستی کے لئے وہ مشکور ہیں اور انہیں توقع ہے کہ حکومت اسی طرح تلنگانہ میں موجود کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کا سلسلہ جاری رکھے گی ۔ جناب محمد مسیح اللہ خان کی نکہت زرین سے ملاقات کے موقع پر رکن وقف بورڈ جناب زیڈ ۔ایچ جاوید کے علاوہ وقف بورڈ کے عہدیداروں کی بڑی تعداد موجود تھی اور اس موقع پر موجود تمام عہدیدار و دیگر نے نکہت زرین کو مبارکباد پیش کی ۔ ملاقات کے دوران نکہت زرین نے جناب محمد مسیح اللہ خان کو صدرنشین وقف بورڈ کے عہدہ کا جائزہ لینے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے ان کے بہترمستقبل کے لئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور وقف بورڈکی جانب سے ریاست کے مسلم نوجوانوں میں کھیل کود کے فروغ اور انہیں جسمانی طور پر چاق و چوبند بنانے کے اقدامات کئے جانے کی ضرورت پر زور دیا اور توقع ظاہر کی کہ وہ اس بارے میں غور کریں گے۔م