وقف بورڈ سے کے سی آر حکومت کی عدم دلچسپی، ارکان کی5 نشستیں مخلوعہ

   

Ferty9 Clinic

الیکشن کرانے کیلئے حکومت سے نمائندگی، آٹھ ماہ سے بورڈ کا کوئی اجلاس نہیں، کارکردگی متاثر

حیدرآباد۔/29 اگسٹ، ( سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ کو کارکرد بنانے اور اوقافی جائیدادوں کے تحفظ میں حکومت کی عدم دلچسپی کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہوسکتا ہے کہ بورڈ میں مخلوعہ 5 نشستوں کو پُر کرنے کیلئے محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے کوئی دلچسپی نہیں دکھائی گئی۔ وقف بورڈ کے چیف ایکزیکیٹو آفیسر نے تحریری طور پر حکومت سے خواہش کی کہ 5 مخلوعہ نشستوں کو پُر کرنے کیلئے الیکشن آفیسر کا تقرر کیا جائے تاکہ باقاعدہ انتخابی اعلامیہ جاری کیا جاسکے لیکن محکمہ اقلیتی بہبود پر اس نمائندگی کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ وقف بورڈ کا اجلاس آخری مرتبہ 5 فروری کو منعقد ہوا تھا جس کے بعد سے بورڈ کی کارکردگی عملاً ٹھپ ہوچکی ہے۔ اسمبلی، لوک سبھا اور مجالس مقامی کے انتخابات کے ضابطہ اخلاق کا بہانہ بناکر حکومت نے مخلوعہ نشستوں کو پُر نہیں کیا۔ اب جبکہ انتخابی مرحلہ مکمل ہوچکا ہے اس کے باوجود گزشتہ پانچ ماہ سے فائیل محکمہ اقلیتی بہبود میں برفدان کی نذر ہوچکی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وقف بورڈ کو کارکرد کرتے ہوئے حکومت اوقافی جائیدادوں کے تحفظ میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتی۔ وقف بورڈ کو مفلوج رکھتے ہوئے ریاست کے کئی علاقوں میں اوقافی املاک اور اراضیات پر ناجائز قبضوں کی راہ ہموار کردی گئی ہے۔ ان حالات میں مسلمانوں میں حکومت کے دعوؤں پر سوال کھڑے ہونا لازمی ہے۔ وقف بورڈ کے ارکان کی جملہ تعداد 11 ہے جن میں لیجسلیچر زمرہ سے 2 ، رکن پارلیمنٹ اور بار کونسل سے ایک ، ایک رکن کی نشستیں مخلوعہ ہیں۔ رکن پارلیمنٹ کے زمرہ میں اسد اویسی دوبارہ لوک سبھا کیلئے منتخب ہوئے۔ ان کے علاوہ محمد معظم خاں اسمبلی کیلئے منتخب ہوئے۔ صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم کی کونسل کی میعاد ختم ہوچکی ہے۔ بار کونسل کے زمرہ میں زیڈ ایچ جاوید کی میعاد مکمل ہوئی اور بار کونسل کے نئے انتخابات میں پہلی مرتبہ دو مسلم وکلاء رکن منتخب ہوئے جن میں زیڈ ایچ جاوید کے علاوہ ایم اے کے مقیت شامل ہیں۔ حکومت اگر چاہے تو بار کونسل کے دونوں ارکان کو بھی وقف بورڈ میں شامل کرسکتی ہے۔ بورڈ کے دیگر منتخب ارکان میں متولی اور منیجنگ کمیٹی زمرہ کے ارکان شامل ہیں۔ باقی 5 ارکان کو حکومت نامزد کرتی ہے۔ مخلوعہ نشستوں کو پُر کرنے کیلئے حکومت کو انتخابی عمل اختیار کرنا پڑے گا اس کے لئے الیکشن آفیسر کا تقرر ضروری ہے۔ پرچہ جات نامزدگی کا ادخال اور دستبرداری کے مراحل کے ساتھ رائے دہی کی تاریخ کا اعلان بھی کیا جاتا ہے۔ اس طویل مرحلہ کیلئے کم از کم ایک ماہ درکار ہے لیکن یہ اسی وقت ممکن ہے جب حکومت تقررات میں دلچسپی لے۔ گزشتہ سات ماہ سے بورڈ کی کارکردگی عملاً ٹھپ ہوچکی ہے اور کئی اہم فیصلے التواء کے شکار ہیں۔ وقف بورڈ کے چیف ایکزیکیٹو آفیسر روز مرہ کے ضروری کاموں کے علاوہ دیگر کاموں کی انجام دہی سے گریز کررہے ہیں کیونکہ اہم فیصلے بورڈ کی منظوری سے لئے جاسکتے ہیں۔ حالیہ عرصہ میں شہر کے مضافاتی علاقوں اور اضلاع میں اوقافی جائیدادوں پر ناجائز قبضوں سے متعلق کئی شکایات منظر عام پر آچکی ہیں۔ اس کے علاوہ اوقافی جائیدادوں کے ڈیولپمنٹ کا معاملہ بھی تعطل کا شکار ہے۔ وقف بورڈ کے موجودہ ارکان نے ایک سے زائد مرتبہ اجلاس کی طلبی کے سلسلہ میں حکومت سے نمائندگی کی تاہم بتایا جاتا ہے کہ حکومت کو صدرنشین وقف بورڈ کی برقراری سے متعلق ہائی کورٹ کے فیصلہ کا انتظار ہے۔ اگر ہائی کورٹ کا فیصلہ صدرنشین کی برقراری کے خلاف آتا ہے تو حکومت موجودہ بورڈ کو تحلیل کرتے ہوئے نیا بورڈ تشکیل دے سکتی ہے۔