تلنگانہ ہائی کورٹ میں درخواست پر بحث ، وقف بورڈ کی سرگرمیوں میں اچانک اضافہ
حیدرآباد۔4۔نومبر۔(سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ نے وقف بورڈ کو ہدایت دی کہ وہ اندرون 4ہفتہ ڈپٹی سیکریٹری رینک کے عہدیداروں کے نام ریاستی حکومت کو روانہ کریں تاکہ حکومت کے محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے وقف بورڈ میں مستقل چیف اکزیکیٹیو آفیسر کے تقرر کے اقدامات کو یقینی بنایا جاسکے۔ جسٹس ایم سدھیر کمار نے آج تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ میں مستقل سی ای او کے تقرر کے سلسلہ میں داخل کی گئی رٹ درخواست کی سماعت کے دوران یہ احکام جاری کئے ہیں اور اس بات کی ہدایت دی کہ وقف ایکٹ کے مطابق ریاستی وقف بورڈ حکومت کو عہدیداروں کے نام روانہ کرے تاکہ ریاستی حکومت کی جانب سے مستقل سی ای او کے تقرر کے سلسلہ میں اقدامات کئے جاسکیں۔ گذشتہ دنوں داخل کی گئی ایک رٹ درخواست کے سلسلہ میں جسٹس ایم سدھیر کمار نے درخواست کو سماعت کے لئے قبول کرنے کے ساتھ ساتھ یہ احکام جاری کئے تھے کہ 4 نومبر تک حکومت وقف بورڈ کے مستقل سی ای او کے تقرر کو یقینی بنائے۔ محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے عدالت میں پیش ہونے والے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ وقف ایکٹ کے مطابق ریاستی وقف بورڈ کو چاہئے کہ وہ عہدیداروں پر مشتمل پیانل کی سفارش حکومت کو روانہ کرے جس میں کسی ایک عہدیدار کو ریاستی حکومت کی جانب سے مستقل چیف اکزیکیٹیو آفیسر کے طور پر تقرر کے احکامات جاری کئے جاسکتے ہیں ۔ حکومت کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ریاستی وقف بورڈ کی جانب سے انہیں کسی بھی عہدیدار کے نام موصول نہیں ہوئے ہیں جس کی وجہ سے حکومت نے کوئی احکامات جاری نہیں کئے ہیں ۔ عدالت نے مقدمہ کی سماعت کے دوران تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ کو ہدایت جاری کی کہ وہ اندرون 4ہفتہ 2 عہدیداروں کے نام ریاستی حکومت کو روانہ کرے جو چیف اکزیکیٹیو آفیسر کے عہدہ کے لئے اہلیت رکھتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق عدالت کے ان احکامات کے ساتھ ہی بورڈ کی سرگرمیوں میں زبردست اضافہ ہوچکا ہے اور بورڈ نے نئے مستقل عہدیدار کے تقرر کے سلسلہ میں عہدیداروں کی نشاندہی کا عمل شروع کردیا ہے اور کہا جا رہاہے کہ جلد ہی عہدیداروں کے ناموں کو قطعیت دیتے ہوئے حکومت کو روانہ کرنے کے اقدامات کئے جائیں گے۔جناب ابراہیم شریف نائب قاضی کی جانب سے داخل کی گئی اس رٹ درخواست نمبر 40043/2022 میں درخواست گذار کے وکیل محمد نصیر الدین ہیں اور عدالت میں بحث کے لئے سینئر کونسل جناب مقیت قریشی ایڈوکیٹ پیش ہوئے ۔ریاستی وقف بورڈ کی جانب سے اسٹینڈنگ کونسل ابواکرم نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ وقف بورڈ کی کارکردگی کے سبب کوئی عہدیدارسی ای او کے عہدہ پر خدمات انجام دینے کے لئے آمادہ نہیں ہے۔م