دستور میں مسلمانوں کو دیئے گئے حقوق کو سلب کرنے کی سازش
حیدرآباد۔/2 اپریل، ( سیاست نیوز) آندھرا پردیش کانگریس کمیٹی کی صدر وائی ایس شرمیلا نے وقف ترمیمی بل کی سختی سے مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ بل کا مقصد دستور میں مسلمانوں کو دیئے گئے مذہبی حقوق کو ختم کرنا ہے۔ پارلیمنٹ میں وقف ترمیمی بل پر مباحث کے دوران وائی ایس شرمیلا نے سوشیل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بل سے متعلق اپنی رائے پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ وقف ترمیمی بل دراصل اقلیتوں کو کچلنے کی ایک سازش ہے اور یہ بل دستوری اقدار کی صریح خلاف ورزی ہے۔ وائی ایس شرمیلا نے دعویٰ کیا کہ بل وزیر اعظم نریندر مودی کے ایجنڈہ کا حصہ ہے جس میں مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کی کوشش ہے۔ انہوں نے پارلیمنٹ میں وقف ترمیمی بل کی پیشکشی کو ملک کا یوم سیاہ قرار دیا اور کہا کہ مرکزی حکومت فرقہ وارانہ منافرت کو ہوا دینے کی کوشش کررہی ہے۔ وائی ایس شرمیلا نے کہا کہ بل کے ذریعہ سرکاری عہدیداروں کو وقف جائیدادوں کی نگرانی اور ان کے دستاویزات کا جائزہ لینے کے اختیارات دیئے گئے ہیں۔ 300 سال قبل سے جن جائیدادوں کے دستاویزات موجود ہیں ان کا دوبارہ جائزہ لینا کسی سازش سے کم نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی جائیداد کو وقف کرنے کیلئے واقف کا 5 سال تک اسلام پر کاربند رہنے کی شرط مضحکہ خیز ہے۔ بل سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح ہوں گے اور اوقافی امور میں حکومت کی مداخلت کی راہ ہموار ہوگی۔ انہوں نے تلگودیشم اور جنا سینا کی جانب سے وقف ترمیمی بل کی تائید کو شرمناک قرار دیا اور دونوں پارٹیوں پر سخت تنقید کی۔ شرمیلا نے چندرا بابو نائیڈو پر الزام عائد کیا کہ اوقافی جائیدادوں کے معاملہ میں ان کا دوہرا معیار ہے۔ دعوت افطار میں اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کا وعدہ کیا گیا لیکن جائیدادوں کو تباہ کرنے کیلئے لائے گئے بل کی پارلیمنٹ میں تائید کی گئی۔1