شمس آباد نوری مسجد کی ملگیات اور قبرستان کی باونڈری وال کے انہدام کے معاملہ پر تحقیقات کا آغاز
حیدرآباد۔29جولائی (سیاست نیوز) شمس آباد مسجد نوری کی ملگیات اور قبرستان کی باؤنڈری وال منہدم کئے جانے کے معاملہ میں تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ نے عہدیدارو ں کو ہدایت دی ہے کہ وہ انہدامی کاروائی میں ملوث افراد اور اداروں کے خلاف شکایت درج کروائیں اور اپنے طور پر اس بات کی تحقیقات کو یقینی بنائیں کہ نیشنل ہائی وے اتھاریٹی نے کس کی اجازت سے مسجد کی ملگیات اور قبرستان کی دیوار کو منہدم کیا ہے۔صدرنشین تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ جناب محمد مسیح اللہ خان نے بتایا کہ دونوں واقعات میں نیشنل ہائی وے اتھاریٹی آف انڈیا کی جانب سے کاروائی کا دعویٰ کیا جا رہاہے اور یہ کہا جا رہاہے کہ تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ نے خاموشی اختیار کی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ کی جانب سے ان جائیدادوں کے تحفظ کے اقدامات کئے جا رہے ہیں اور ان جائیدادوں پر کی جانے والی کاروائی کے خلاف فوجداری مقدمات درج کروانے کی وہ ہدایت دے چکے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ بورڈ کی جانب سے دی گئی ہدایت کے بعد عہدیداروں نے محکمہ پولیس سے شکایت اور فوجداری مقدمہ درج کروانے کا فیصلہ کیا ہے ۔جناب محمد مسیح اللہ خان نے بتایا کہ انہیں فراہم کی گئی تفصیلات کے مطابق محکمہ پولیس نے ریاستی وقف بورڈ کی شکایت موصول ہونے کے بعد تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔ انہو ںنے بتایا کہ ان انہدامی کاروائیوں پر وقف بورڈ کے عہدیداروں کی خاموشی کے سلسلہ میں عائد کئے جانے والے الزامات درست نہیں ہیں لیکن اس کے باوجودریاستی وقف بورڈ کی جانب سے تحقیقات کے ذریعہ حقائق سے آگہی حاصل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔انہو ںنے بتایا کہ تلنگانہ میں کسی بھی مقام پر اوقافی جائیداد کو نقصان پہنچائے جانے کی اطلاع یا شکایت پر قف بورڈ خاموش تماشائی نہیں رہے گا بلکہ فوری اثرکے ساتھ کاروائی کو یقینی بنایا جائے گا کیونکہ ریاستی حکومت اور چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے سلسلہ میں سخت مؤقف رکھتے ہیں۔م