برطانی سامراج سے 5 مرتبہ رحم کی درخواست کی تھی ، ساور کر کے پڑپوتے کا عدالت میں بیان
محمد مبشرالدین خرم
حیدرآباد۔2۔مئی ۔ ملک میں ہندوتوا بریگیڈ جن کو اپنا آئیڈیل مانتا ہے اور جن کی مدح سرائی میں زمین و آسمان کے قلابے ملایا کرتا ہے وہی ونائک دامودر ساورکر انگریزوں سے رحم کی بھیک مانگتے رہے۔ انہوں نے کبھی گائے کو مقدس نہیں مانا بلکہ نفع بخش جانور سمجھتے تھے۔ساورکر نے ایک یا دو مرتبہ نہیں پورے 5مرتبہ برطانوی سامراج کے پاس ’’درخواست رحم ‘‘ روانہ کی ۔علاوہ ازیں دوسری جنگ عظیم میں برطانیہ کے ساتھ جنگ میں حصہ لینے کا موقع دینے کے لئے بھی درخواست دی تھی۔ ساورکر کے پڑپوتے نے عدالت میں اپنے بیان کے دوران اس بات کا اعتراف کیا ہے۔ راہول گاندھی کے خلاف پونے کی عدالت میں جاری مقدمہ میں شکایت کنندہ پڑپوتے ستیاکی ساورکر نے عوامی نمائندوں کے خلاف کی جانے والی شکایت کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت میں اپنا بیان قلمبند کروانے کے دوران اس بات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ونائک دامودر ساورکر نے 5 مرتبہ برطانوی حکومت کے پاس ’درخواست رحم ‘ پیش کی تھی اور انہوں نے کبھی ’ گائے‘ کو بھگوان قرار نہیں دیا بلکہ وہ جب کبھی گائے کا تذکرہ کرتے اسے مفید جانور قرار دیا کرتے تھے ۔ پونے کی عدالت میں اس غیر مختتم جرح جو کہ یکم جون کو آئندہ سماعت کے دوران بھی جاری رہے گی کے دوران انہوں نے راہول گاندھی کے وکیل ملند پوار سے کی جانے والی جرح میں ان باتوں کا اعتراف کیا۔ انہوں نے بتایا کہ سیلولر جیل (انڈمان نکوبار ) میں قید کے دوران محض ’’ساورکر‘‘ نے ہی نہیں بلکہ دیگر قیدیوں نے بھی برطانوی حکومت کو ’رحم کی درخواست ‘ روانہ کی تھی لیکن انہوں نے کسی بھی سیاسی قیدی کے نام کا حوالہ نہیں دیا جبکہ دعویٰ کیا کہ سیلولر جیل میں قید کے دوران کئی سیاسی قیدیوں نے اس نوعیت کی درخواستیں روانہ کی تھیں۔انہوں نے جرح کے دوران ’گائے‘ کے متعلق ساورکر کے نظریہ پر کئے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ساورکر نے ’گائے ‘ کو کبھی مقدس ہستی‘ بھگوان قرارنہیں دیا بلکہ وہ اسے ایک مفید جانور قراردیتے ہیں۔ ساورکر کے پڑپوتے وراہول گاندھی کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائر کرنے والے ستیاکی ساورکر نے بتایا کہ دوقومی نظریہ ساورکر نے کبھی پیش نہیں کیا اور ان پر لگائی جانے والی تہمت درست نہیں ہے ۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ دوقومی نظریہ دراصل سرسید احمد خان کا وضع کردہ ہے اور ساورکر نے اس نظریہ پر صرف بحث و تبصرہ کیا ہے۔ ستیاکی ساورکر نے جرح کے دوران دوسری جنگ عظیم میں برطانوی فوج میں شمولیت کی درخواست کے متعلق پوچھے گئے سوال پر اس بات کو تسلیم کیا کہ ونائک دامودر ساورکر نے دوسری جنگ عظیم کے دوران برطانوی فوج میں شمولیت کی درخواست دی تھی لیکن اس کا مقصد نوجوانوں کو فوجی تربیت کی فراہمی تھا۔ انہوں نے استدلال پیش کیا کہ اس اقدام کا مقصد نوجوانوں کو فوجی تربیت فراہم کرتے ہوئے انہیں آزادیٔ ہند کے بعد ہندستان کے دفاع کے لئے تیار رکھا جاسکے اور وہ ملک کی سرحدوں کی حفاظت کے لئے کارآمد ثابت ہوں۔ان کے پڑپوتے نے ونائک دامودر ساورکرکے آر ایس ایس سے تعلق سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ نہیں جانتے کے ان کے پردادا جن کے متعلق راہول گاندھی نے ریمارکس کئے ہیں ان کے سیاسی نظریات کیا تھے۔ ساورکر کے پڑپوتے نے ’ساورکر‘ کو ’بھارت رتن‘ کے اعزاز سے نوازنے کا مطالبہ کئے جانے کے متعلق کئے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ نہیں جانتے کہ وہ کون لوگ ہیں جو ’ساورکر‘ کو بھارت رتن کا مطالبہ کر رہے ہیں جبکہ یہ فیصلہ کرنا حکومت ہند کا اختیار ہے ‘ انہوں نے گاندھی خاندان میں دئیے گئے ’بھارت رتن ‘ ایوارڈس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک ہی خاندان میں تین افراد کو بھارت رتن دیا گیا ہے۔راہول گاندھی پر ’’ساورکر‘‘ کی توہین کا الزام عائد کرتے ہوئے ان کے خلاف دائر کی گئی اس درخواست کی سماعت اور جرح کے دوران ’ساورکر‘ کے پڑپوتے کے اعتراف کے بعد ملک بھر میں نئی سیاسی بحث چھڑنے کا امکان ہے کیونکہ ہندتوا نظریہ ساز ساورکرکے دفاع میں اترنے والوں کو اب خود ’ساورکر‘ کے پڑپوتے کے اعترافات کے بعد مزید بحث و مباحثہ کا سلسلہ شروع ہونے کا امکان ہے۔