ووٹوں کی وی وی پیاٹ سے جانچ کی درخواستوں پرمنگل کو سماعت

   

رائے دہندے کو ووٹ ’ ریکارڈ‘ ہونے کی طمانیت ضروری ۔ سپریم کورٹ میں دو درخواستیں

نئی دہلی : سپریم کورٹ نے آج کہا ہے کہ وہ لوک سبھا انتخابات میںڈالے گئے ووٹس کی وی وی پیاٹ کے ذریعہ جانچ کی استدعا کرنے والی درخواستوں کی 16 اپریل کو سماعت کرے گی ۔ وی وی پیاٹ ایک آزادانہ ووٹ ویریفکیشن سسٹم ہے جس کے ذریعہ کوئی بھی ووٹر اپنے ووٹ کا مشاہدہ کرسکتا ہے ۔ اس کے ذریعہ ایک پیپر سلپ تیار ہوتی ہے جسے ووٹر دیکھ سکتا ہے ۔ اس سلپ کو ایک سربمہر کور میں رکھا جاتا ہے اور کسی تنازعہ کی صورت میں اس کو کھولا جاسکتا ہے ۔ جسٹس سنجیو کھنہ اور جسٹس دیپانکر دتہ پر مشتمل بنچ نے الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں سے متعلق درخواستوں کی سماعت نہیں کی اور کہا کہ وہ ان درخواستوں پر آئندہ منگل کو سماعت کرے گی ۔ ملک میںسات مراحل پر مشتمل لوک سبھا انتخابات کا 19 اپریل سے آغاز ہوگا ۔ سپریم کورٹ نے 3 اپریل کو کہا تھا کہ وہ آئندہ ہفتے انتخابی اصلاحات سے متعلق ایک این جی او کی درخواست پر سماعت کرے گی ۔ ایڈوکیٹ پرشانت بھوشن نے اس طرح کی درخواستوں کی فوری سماعت کی استدعا کی تھی ۔ یکم اپریل کو سپریم کورٹ نے اس طرح کی درخواستوں پر الیکشن کمیشن اور مرکزی حکومت سے جواب طلب کیا تھا ۔ سماجی جہد کار ارون کمار اگروال نے بھی ایک درخواست داخل کرتے ہوئے انتخابات میں تمام وی وی پیاٹ سلپس کی گنتی کرنے کی ہدایت دینے استدعا کی تھی ۔ فی الحال ہر اسمبلی حلقہ میں صرف پانچ منتخبہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے وی وی پیاٹس کی جانچ کی روایت ہے ۔ کسی بھی پارلیمانی حلقہ کے تحت آنے والے اسمبلی حلقہ جات میں ہر حلقہ سے صرف پانچ ووٹنگ مشینوں کی جانچ کی جاتی ہے ۔ ان دونوں ہی درخواستوں پر اب 16 اپریل کو سپریم کورٹ میں سماعت ہوگی ۔ اسوسی ایشن برائے انتخابی اصلاحات نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ وہ الیکشن کمیشن اور مرکزی حکومت کو یہ ہدایت دی جائے کہ تمام وی وی پیاٹ کو محفوظ کیا جائے اور ووٹر کو یہ اطمینان دلایا جائے کہ اس کے ووٹ کو ریکارڈ کرلیا گیا ہے ۔ درخواستوں میں کہا گیا ہے کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں میںشمار ہونے والے ووٹوں اور وی وی پیاٹ سلپس کی گنتی کرتے ہوئے ایک دوسرے سے ملایا جائے ۔ اس بات کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا گیا ہے کہ رائے دہندے کو یہ اطمینان دلایا جائے کہ اس کا ووٹ ڈالا جاچکا ہے اور ریکارڈ کیا جاچکا ہے ۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ حالانکہ ووٹنگ مشینوں میںیہ گنجائش ہے کہ رائے دہندے اپنے ووٹ کا مشاہدہ کرسکیں کیونکہ تاہم اس بات کا کوئی قانون موجود نہیں ہے کہ ووٹر کو یہ اطمینان ہوسکے کہ اس کا ڈالا گیا ووٹ رجسٹر ہوگیا ہے ۔ اس کی بعد میںتنقیح کی گنجائش بھی ہونی چاہئے ۔ کسی بھی ووٹر کا ووٹ ریکارڈ کرنے کو یقینی بنایا جانا چاہئے کیونکہ اس کے ذریعہ ہی طمانیت ممکن ہوسکتی ہے ۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن اس سہولت کی فراہمی میں اب تک ناکام ہے اور اسی وجہ سے اعتراضات پیدا ہونے لگے ہیں۔