مشین لرننگ، ڈاٹا سائنسیس اور IOT کورسیس بھی شروع کرنے کی تجویز
حیدرآباد ۔ یکم مئی ۔ (سیاست نیوز) ریاست کی پہلی ویمنس یونیورسٹی، تلنگانہ مہیلا وشوا ودیالیم نے اُبھرتی ٹیکنالوجیز جیسے آرٹیفیشل انٹلی جنس (مصنوعی ذہانت)، مشین لرننگ، ڈیٹا سائنسیس اور انٹرنیٹ آف تھنگس (IOT) میں انجینئرنگ کورسیس شروع کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ انجینئرنگ کے علاوہ آرٹس سوشل سائنسیس میں پی جی سطح پر کئی کورسیس بشمول سوشیالوجی، نیوٹریشن اینڈ ڈنٹیٹکس، کیمسٹری شروع کئے جائیں گے۔ معذور طلبہ کے لئے یونیورسٹی خصوصی کورسیس فراہم کرے گی جو ان کے لئے ملازمت حاصل کرنے میں معاون ہوں گے۔ ایک عہدیدار نے کہاکہ روایتی انجینئرنگ کورسیس کے بجائے یہ یونیورسٹی اُبھرتی ٹیکنالوجیز میں انجینئرنگ پروگرامس شروع کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ کئی پی جی کورسیس اور بی ایڈ پروگرام بھی شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ جیسے ہی نئے کورسیس شروع کئے جائیں گے ان کے شعبے بنائے جائیں گے اور درکار فیکلٹی کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔ یہ اس لئے ہورہا ہے کیوں کہ ریاستی حکومت نے حال ہی میں کوٹھی ویمنس کالج کے نام سے مشہور عثمانیہ یونیورسٹی کالج فار ویمن کو ترقی دیتے ہوئے مہیلا وشوا ودیالیم قائم کرنے کے لئے احکام جاری کئے ہیں۔ حکومت نے تدریسی اور غیر تدریسی اسٹاف کو منظوری دینے کے علاوہ نئے کورسیس متعارف کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ قبل ازیں اس نے اس یونیورسٹی کے لئے اس سال کے ریاستی بجٹ میں 100 کروڑ روپئے کی تجویز پیش کی جو آئندہ تعلیمی سال یعنی 2022-23 سے اپنی کارکردگی شروع کرے گی۔ فی الوقت، اس کالج میں انڈر گرائجویٹ اور پوسٹ گرائجویٹ سطح پر مختلف کامبینیشنس میں 72 کورسیس پیش کئے جارہے ہیں اور طالبات کی تعداد 4,500 ہے۔ نئے کورسیس اور طلبہ کے لئے درکار ضرورت کو پورا کرنے کے لئے ایک بڑے کلاس روم کامپلکس اور ہاسٹل کی تعمیر کی تجویز ہے۔ ایک عہدیدار نے کہاکہ ’’ہم نے کلاس روم کامپلکس اور ایک ہاسٹل تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دونوں بلڈنگس G+9 فلورس کے ساتھ تعمیر کرنے کی تجویز ہے‘‘۔ اس دوران کالج انتظامیہ کی جانب سے اس کالج کے آخری کانوکیشن (جلسہ تقسیم اسناد) کو مئی کے پہلے ہفتہ میں منعقد کیا جائے گا جس میں تقریباً 850 طالبات گرائجویٹ بن کر فارغ التحصیل ہوں گی اور میرٹ طالبات کو 10 گولڈ میڈلس پیش کئے جائیں گے۔ یہ کانوکیشن تقریب کالج کے احاطہ میں منعقد ہوگی۔