اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ٹرمپ کو اب بھی ایران کے خلاف جنگ میں ’فاتح‘ ہونے کا بھرم
واشنگٹن ۔ 8 ستمبر (ایجنسیز) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ میں اپنی بیان کردہ ’فتح‘ کے بعد تیل کی قیمتوں میں شدید کمی کی توقع ظاہر کی ہے، جبکہ انہوں نے ایک بار پھر عزم ظاہر کیا کہ تہران کو نیوکلیئر ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ٹروتھ سوشل‘‘ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ جب امریکہ ایران کے خلاف جنگ میں کامیابی حاصل کرے گا، تو تیل کی قیمتیں بہت تیزی سے نیچے آئیں گی۔ ان کے بقول یہ کمی دیگر اشیا کی قیمتوں میں ہونے والی کمی سے بھی زیادہ ہوگی۔امریکی صدر نے توقع ظاہر کی کہ اس کا اثر امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں پر بھی فوری طور پر پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ پٹرول کی قیمت 3 ڈالر فی گیلن تک آ جائے گی اور بالآخر 2 ڈالر فی گیلن سے بھی کم ہو جائے گی۔ٹرمپ نے مزید کہا کہ یہ پیش رفت ’’تیزی سے‘‘ سامنے آئے گی، تاہم انہوں نے اس کیلئے کوئی مخصوص مدت یا ان عوامل کی تفصیلات فراہم نہیں کیں جو تیل اور پٹرول کی قیمتوں کو ان سطحوں تک لانے کا سبب بنیں گے۔اسی پیغام میں ٹرمپ نے ایرانی نیوکلیئر پروگرام کے حوالے سے بھی اپنے مؤقف کو دہرایا اور واضح کیا کہ ایران کبھی بھی نیوکلیئر ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔ان کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں ،جب ایران کے ساتھ جنگ جاری ہے، جس کے نتیجہ میں عالمی توانائی کی منڈیوں اور آبنائے ہرمز کے ذریعہ بحری آمدورفت میں بے چینی پیدا ہوئی ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا میں تیل کی برآمد کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے۔اس سے قبل ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ آبنائے ہرمز کے ذریعہ تیل کی ترسیل تقریباً سابقہ سطح پر بحال ہو گئی ہے اور یہ روزانہ تقریباً 18 ملین بیرل تک پہنچ گئی ہے، جبکہ امریکی افواج ایران پر ناکہ بندی نافذ کرنے کیلئے اپنی بحری کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔تیل کی قیمتوں کا انحصار متعدد عوامل پر ہوتا ہے، جن میں عالمی طلب و رسد، تیل کی پیداوار، ذخائر اور جغرافیائی سیاسی خطرات شامل ہیں۔لہٰذا پٹرول کی قیمت 2 ڈالر فی گیلن سے بھی کم ہونے سے متعلق ٹرمپ کی پیش گوئی کو ایک سیاسی و معاشی اندازہ سمجھا جا سکتا ہے، اسے کسی یقینی قیمت یا جنگ کے خاتمے کے بعد خودکار طور پر ہونے والے نتیجہ کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔